تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 448 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 448

تاریخ احمدیت۔جلد 22 448 سال 1964ء نے لوگوں کو یہی محبت بھرا پیغام دیا ہے کہ تمام مخلوق کا خالق اور مالک خدائے واحد ہی ہے۔اسی کا دامن پکڑنے سے انسان فلاح حاصل کر سکتا ہے۔آخر میں ہم آپ سے یہی عرض کرنا چاہتے ہیں کہ اس فساد کے زمانہ میں ہم سب کے کام آنیوالی بات یہی ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کے نام پر جمع ہو جائیں۔اس بارہ میں گوربانی میں یہ مرقوم ہے کہ :۔ہوئے اکثر ملہو میرے بھائی دبدھا دور کر ہولولائے ہر نامے کے ہو وہو جوڑی گورمکھ بیسو صفا و چھائے اور ہمارے قرآن شریف کا ارشاد ہے:۔قُل يَا هَلَ الْكِتَب تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا الله ( آل عمران : ۶۵) ہماری جماعت احمدیہ جس کا مرکز آپ کے ملک میں قادیان ضلع گورداسپور میں ہے اور پاکستان میں ربوہ ضلع جھنگ میں ہے آج تمام دنیا میں یہی پیغام محبت دے رہی ہے کہ لوگوں کا فائدہ اسی میں ہے کہ وہ اپنے رب العزت سے صلح کر لیں اور اس کی مخلوق کی خیر خواہی اپنا نصب العین بنالیں۔اس ٹریکٹ کا مکمل گورمکھی متن ہندوستان کے مندرجہ ذیل تین اخبارات نے شائع کیا۔(۱)۔روزنامہ نواں ہندوستان دہلی (۲۲ را پریل ۱۹۶۴ء) (۲)۔روزنامہ اجیت جالندھر (۲۴ را پریل ۱۹۶۴ء) (۳)۔ہفت روزہ فتح دہلی (۲۴ را پریل ۱۹۶۴ء) مسئلہ کشمیر اور جماعت احمدیہ کی مساعی 57- اپریل ۱۹۶۴ء کا واقعہ ہے کہ خواجہ شہاب الدین صاحب کے زیر قیادت ایک پاکستانی وفد مسئلہ کشمیر میں انڈونیشیا حکومت کی حمایت حاصل کرنے کے لئے گیا۔وفد کے چار ممبروں میں سردار محمد ابراہیم صاحب اور سندھ اسمبلی کے ایک ممبر اور بیروت میں رہائش رکھنے والے ایک پاکستانی بھی تھے جو نیوز ایجنسی کے نامہ نگار اور مقرر تھے۔سپیکر اسمبلی آرد جی کرتا وی نانا صاحب نے وفد کی ملاقات سے صاف انکار کر دیا مگر مکرم سید شاہ محمد صاحب مبلغ سلسلہ کی کوشش سے نہ صرف سپیکر صاحب نے انہیں ناشتہ کی دعوت پر بلایا اور ملاقات کی بلکہ اعلان کیا کہ انڈونیشیا کی پبلک کشمیر کے مسئلہ میں پاکستان کی سو فیصدی حمایت کرتی ہے۔علاوہ ازیں شاہ صاحب نے اپنے ذاتی اثر و رسوخ سے کام لے کر ایک