تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 447 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 447

تاریخ احمدیت۔جلد 22 447 سال 1964ء پوری پوری یگانگت پائی جاتی ہے۔اسلام نے جس خدا تعالیٰ کی طرف لوگوں کو بلایا ہے اسی کو سکھ مذہب میں اپنایا گیا ہے۔ہم اس اتحاد کو آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتے ہیں۔اسلام نے جس اللہ تعالیٰ کا پتہ لوگوں کو دیا ہے وہ سورہ اخلاص میں یوں بیان کیا گیا ہے کہ:۔قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ (یعنی یہ اعلان کر دو کہ اللہ تعالیٰ ایک ہی ہے ) گوربانی میں مذکور ہے کہ:۔کہہ نانک گور کھوئے بھرم ایکو الله پار برهم 54 اللهُ الصَّمَدُ ( یعنی۔وہ بے تاج ہے اور کبھی اس کے محتاج ہیں ) جس کو گور بانی میں یوں ادا کیا گیا ہے۔شاہاں سر ساچا شاه بے محتاج پورا پادشاه 55 لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ (وہ بیٹے ، بیٹیوں اور ماں باپ وغیرہ سے پاک ہے۔نہ اسے کسی نے جنا ہے اور نہ اس نے کسی کو جنا ہے ) گوربانی کا یہ پیغام ہے کہ:۔نہ تیس مات پتاست بندھپ نہ تش کام نہ ناری اکل نرنجن اپر پر میر سگی جوت تمہاری وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا اَحَدٌ (اس جیسا کوئی بھی اور نہیں) گور بانی میں اس کی شہادت یوں دی گئی ہے کہ :۔ندھ جیوڈ ہور شریک ہووے تاں آکھیئے ندھ جیوڈ تو ہے ہوئی الغرض اس سے سکھ مذہب اور گورمت کی سدھانتک سانجھ واضح ہے۔ہم یہ جانتے ہیں کہ تمام دنیا کے سب جھگڑوں کا واحد علاج ایک ہی ہے۔اور وہ یہی ہے کہ لوگ اپنے رب العزت سے صلح کر لیں۔جتنے بھی نبی، رسول اور اوتار وغیرہ مقدس لوگ وقتاً فوقتاً دنیا میں ظاہر ہوتے رہے ہیں انہوں