تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 31 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 31

تاریخ احمدیت۔جلد 22 ☆ 31 سال 1963ء جماعت احمد یہ آئیوری کوسٹ مغربی افریقہ کے پریذیڈنٹ یوسف سیلا صاحب (Yusuf Sylla) نے صدر مملکت کے نام اپنے احتجاجی مکتوب میں لکھا:۔و ہی موثر ، قائل کر دینے والے، معقول اور بین دلائل جن کی وجہ سے ہم میں سے بہتوں نے عیسائیت کو خیر باد کہہ کر اسلام قبول کیا۔ہماری مسلمان حکومت کو قابل اعتراض نظر آنے لگے۔یہ ایسی عجیب بات ہے کہ ہم تو اسے تصور میں بھی نہیں لا سکتے۔“ ان جماعتوں کے علاوہ برما، شمالی بورنیو، سنگا پور، سیلون، ماریشس، عدن، کمپاله، نیروبی ، دار السلام ( ٹانگانیکا ) ، میڈرڈ (سپین)، مانٹریال (کینیڈا)، کلیولینڈ ، اوہائیو (امریکہ) کی جماعتوں نے بھی صدر پاکستان کو تار اور مراسلے بھجوائے اور ضبطی کے غیر دانشمندانہ اقدام کے خلاف پوری قوت 38 سے آواز اٹھائی۔جماعت احمدیہ کا یہ عالمی احتجاج چونکہ خالص دینی اور تبلیغی نوعیت کا تھا جس کے پیچھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و حرمت کے تحفظ اور دفاع اسلام کا مقدس جذ بہ کارفرما تھا اس لئے بے شمار در دمند اور غیور مسلمان یک زبان ہو کر اس احتجاج میں شامل ہو گئے۔اتحاد بین المسلمین کا یہ ایسا روح پرور نظارہ تھا جس نے ۱۹۲۸ء کی تحریک جلسہ سیرت النبی ﷺ کے زمانہ کی یاد تازہ کردی۔اس ملٹی پلیٹ فارم پر قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ممبر، مختلف مذہبی اور ادبی اداروں کے سربراہ، یونین کونسلوں کے چیئر مین، وکلاء، رؤساء، تاجر الغرض زندگی کے ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے معزز مسلمانوں نے حکومت مغربی پاکستان کے اقدام کی کھلے لفظوں میں مذمت کی اور ضبطی کے احکام کو منسوخ کرنے کا پُر زور مطالبہ کیا۔ملت اسلامیہ کی اس وحدت و یکجہتی کو دیکھ کر اسلام کے خلاف برسر پریکار عیسائی طاقتیں حیرت زدہ ہو گئیں اور ان کے منصوبے پیوند خاک ہو کے رہ گئے۔بطور نمونہ چند اہم شخصیات کے اسمائے گرامی اور بعض کے بیانات بھی اختصار کے ساتھ ہدیہ قارئین کئے جاتے ہیں۔قومی اسمبلی کے اراکین رکن قومی اسمبلی غلام حیدر صاحب بھروانہ۔39 جناب محمد ذاکر قریشی صاحب رکن قومی اسمبلی۔