تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 409 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 409

تاریخ احمدیت۔جلد 22 409 سال 1964ء سے وابستگی اور اطاعت و فرمانبرداری کی روح کو خوب مضبوط کیا اور حاسد حسد کی آگ میں جلتے رہے۔قادیان دارالامان سے ہجرت عارضی پر بظاہر جماعت کا شیرازہ بکھر گیا تھا۔حضور پرنور کی اولوالعزمی اور حکیمانہ رہنمائی نے جماعت کو پھر ایک مضبوط مرکز پر جمع کر دیا اور حضور نے اپنے مسیحائی نفس سے معجزانہ رنگ میں جماعت کو پہلے سے کہیں بڑھ کر مضبوط کر دیا۔اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت اور تائید حضور کے ساتھ ہر موقع پر رہی اور مخالف و موافق سب نے یہ نظارے دیکھے اور خدا تعالیٰ نے سب کو اس پر گواہ ٹھہرایا۔میرے پیارے محسن آقا! اللہ تعالیٰ کی ہزار ہزار رحمتیں و فضل حضور کے شامل حال ہوں۔حضور کے بے شمار احسان تمام جماعت پر ہیں۔تمام جماعت ان احسانات کا بدلہ کسی رنگ میں بھی قطعاً ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتی۔انڈونیشیا میں تبلیغ احمدیت محض حضور پر نور کی توجہ مبارک اور احسان کا نتیجہ ہے۔آج اس ملک میں ہزار ہا فرزندانِ احمدیت موجود ہیں جو اسلام اور احمدیت کی خاطر ہر قربانی کرنے کے لئے تیار ہیں۔حضور پُر نور نے اپنے مسیحائی نفس اور روح الحق کی برکت سے تمام روحانی بیماریوں کو صاف کر کے ہم سب کو باخدا انسان بنادیا ہے جس کی وجہ سے آج ہم سب حضور پر نور کے ادنیٰ خادم اسلام اور احمدیت کی خاطر ہر قربانی کرنے کے لئے انشاء اللہ تیار ہیں۔اسی طرح مکرم ہدایت اللہ صاحب بنگوی نے بھی جکارتہ سے پیغام بھیجا :۔د میں اور میرے خاندان کے جملہ افراد حضور کے نہایت بابرکت دورِ خلافت کے پچاس سال گزرنے کے بعد کا ونواں سال شروع ہونے کی بابرکت و پُر مسرت تقریب پر صمیم قلب سے مبارک باد عرض کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور دعا گو ہیں کہ وہ اپنے فضل سے حضور کا مقدس و بابرکت سایہ ہمارے سروں پر تا دیر سلامت رکھے۔كينيا مکرم مولوی نورالحق انور صاحب مبلغ انچارج کینیا نے احباب جماعت کینیا کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے لکھا:۔آج مؤرخہ ۱۴ مارچ کو حضور کی موعودہ خلافت کے نہایت درجہ مقدس و بابرکت دور کے پچاس سال پورے ہو کر ا کا ونویں سال کے شروع ہونے پر جماعت احمدیہ کینیا ( مشرقی افریقہ ) اللہ تعالیٰ