تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 408
تاریخ احمدیت۔جلد 22 408 سال 1964ء حیثیت سے ابھر چکی تھی اس لئے اس مبارک تقریب پر مشرق و مغرب سے حضرت مصلح موعود کی خدمت میں بکثرت دلی مبارک باد کے دعائیہ پیغامات بذریعہ تار و خطوط پہنچے۔جن میں حضور کی صحت کاملہ عاجلہ اور درازی عمر کی دردمندانہ دعاؤں کے علاوہ احباب جماعت نے اس عہد کی تجدید کی کہ وہ حضور کی آسمانی قیادت میں غلبہ احمدیت کی خاطر آئندہ بھی بڑی سے بڑی قربانی پیش کرنے سے دریغ نہیں کریں گے۔اور حضور کے قدم بقدم و شانہ بشانہ ترقیات کے میدان میں آگے ہی آگے بڑھتے چلے جائیں گے۔انڈونیشیا 11 احباب جماعت احمد یہ انڈونیشیا کی نمائندگی میں مکرم سید شاہ محمد صاحب رئیس التبلیغ انڈونیشیا نے جکارتہ سے حضور کی خدمت میں تار دیا کہ:۔ہم پھر عہد کرتے ہیں کہ ہم نظام خلافت کی حفاظت اس کی مضبوطی اور استحکام کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے اور خلافت حقہ کے ہمیشہ وفادار ر ہیں گئے۔تار کے بعد آپ نے حسب ذیل مکتوب بھی دربار خلافت میں لکھا:۔12 ”میرے پیارے محسن آقا ! اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے حضور کو مسند خلافت پر بیٹھے ہوئے ۱۴ / مارچ ۱۹۶۴ء کو پورے پچاس سال ہو چکے ہیں۔اس عرصہ میں حضور کی راہنمائی میں تبلیغ احمدیت دنیا کے کونے کونے تک پہنچ چکی ہے۔دنیا کی مختلف مشہور زبانوں میں قرآن کریم کے تراجم شائع ہوچکے ہیں۔عیسائیت کے مراکز میں خدائے واحد کا نام بلند کرنے کے لئے متعدد مساجد مشہور شہروں میں تعمیر ہو چکی ہیں۔اس پچاس سال کے عرصہ میں جماعت کی ترقی اظہر من الشمس ہے۔اللہ تعالیٰ کی نصرت حضور کے ساتھ قدم قدم پر رہی ہے۔سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم۔اس عرصہ میں متعدد فتنے اندرونی و بیرونی اٹھے۔مخالفین ہر بار امید لگائے رہے کہ اب جماعت احمد یہ نیست و نابود ہو گئی لیکن حضور پُر نور کی راہنمائی میں اللہ تعالیٰ نے ہر بار بڑی شان و شوکت سے ان تمام فتنوں کو مٹا کر خلافت حقہ اور حضور پر نور کی صداقت پر گواہی دی۔اور مخالفین و حاسدوں کی صفوں میں ماتم بچھ گیا اور مومنوں کے ایمان مضبوط ہوئے۔وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمَنَّا ( النور : ۵۶) کے مطابق اللہ تعالیٰ نے تمام سیاہ بادل و گھٹائیں دور کر کے مومنوں کے اخلاص و ایمان کو اور بھی بڑھایا۔ہر فتنہ نے کھاد کا کام دیا اور جماعت میں خلافت