تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 405
تاریخ احمدیت۔جلد 22 وو 405 سال 1964ء سب سے بڑی ہمدردی خلق انہیں راہ حق کی طرف ہدایت کرنا اور انہیں خدا تعالیٰ سے روشناس کرانا ہے“ ہمیں چاہیئے کہ ہم میں سے ہر ایک شخص کم از کم ایک شخص کو اس سال راہ ہدایت پر لائے اور خدا تعالیٰ سے روشناس کرائے“۔ربوہ کے پریس نے اس موقعہ پر غیر معمولی فرض شناسی اور ولولہ ذوق وشوق کا ثبوت دیا۔چنانچہ الفضل نے سب سے پہلے ۱۵ مارچ ۱۹۶۴ء کی اشاعت میں جناب مسعود احمد صاحب دہلوی نائب ایڈیٹر افضل کا ایک پُر جوش مضمون شائع کیا۔بعد ازاں دو ادارتی نوٹوں کے علاوہ درج ذیل اہل قلم اصحاب کے مضامین اس موقعہ پر سپر داشاعت کئے :۔(۱) پروفیسر بشارت الرحمن صاحب ایم اے ( ۲۰ مارچ ۱۹۶۴ء) (۲) شیخ خورشید احمد صاحب (۲۱ مارچ ۱۹۶۴ء) (۳) مولانا دوست محمد شاہد صاحب (۲۶،۲۲ مارچ ۱۹۶۴ء) (۴) پروفیسر حبیب اللہ خان صاحب (۶ ار ا پریل ۱۹۶۴ ء ) (۵) مولوی عبد المنان صاحب شاہد مربی سلسله (۲۱ / اپریل ۱۹۶۴ء) اس موقعہ پر سب سے بڑھ کر اس امر کی ضرورت تھی کہ نو جوانانِ احمدیت کو حضرت مصلح موعود کی عظیم شخصیت ، بلند مقام اور عہد خلافت ثانیہ کے زریں کارناموں سے شرح وبسط کے ساتھ روشناس کرایا جائے۔اس اہم ترین ملتی تقاضا کی تکمیل مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے ترجمان رسالہ ”خالد نے پوری شان کے ساتھ کی۔چنانچہ اس نے اس تقریب پر دو سو بیس صفحات پر مشتمل ” خلافت ثانیہ نمبر شائع کیا۔جو نہایت بلند پایہ مضامین، پر معارف منظومات اور دیدہ زیب تصاویر سے مزین تھا۔رسالہ کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے مندرجہ ذیل فہرست مندرجات پر ایک نظر ڈالنا ہی کافی ہوگا۔یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ اُن دنوں رسالہ کے مدیر جناب رفیق احمد صاحب ثاقب اور نائب مدیر جناب لطف الرحمن صاحب محمود تھے۔عرض حال پیغامات خصوصی (اداریہ ) رفیق احمد صاحب ثاقب حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب شاہجہانپوری محترم جناب چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب صفحم ۵