تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 404
تاریخ احمدیت۔جلد 22 404 سال 1964ء مضطرب ہو کر اٹھا اور ایک مختصر سی جماعت اپنے گرد جمع کر کے اسلام کی نشر و اشاعت کے لئے آگے بڑھا مرزا غلام احمد۔۔۔اپنی جماعت میں وہ تڑپ پیدا کر گیا جو نہ صرف مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے لئے قابل تقلید ہے بلکہ دنیا کی تمام اشاعتی جماعتوں کے لئے نمونہ ہے۔اور ڈاکٹر محمد اقبال کو بھی یہ اقرار کرنا پڑا کہ:۔پنجاب میں اسلامی سیرت کا ٹھیٹھ نمونہ اس جماعت کی شکل میں ظاہر ہوا ہے جسے فرقہ قادیانی کہتے ہیں۔( ڈاکٹر اقبال کی انگریزی تقریر کے اصل الفاظ یہ ہیں:۔"In the Punjab the essentially Muslim type of character has found a powerful expression in the so-called Qadiani sect۔"8 افسوس که مکتبه عالیہ اردو بازار لاہور نے ڈاکٹر اقبال کے مقالہ کے اردو ترجمہ ” ملت بیضاء پر ایک عمرانی نظر سے اس عبارت کا ترجمہ ہی حذف کر دیا ہے۔یہ ترجمہ مولانا ظفر علی خان صاحب کے قلم سے نکلا ہوا ہے۔) اور ان کی قربانیوں کو صحابہ کی قربانیوں سے تشبیہ دی گئی۔ہمیں عہد کرنا چاہیئے۔پس اللہ تعالیٰ کے ان احسانات اور انعامات کا جو اس نے محض اپنے فضل سے ہماری جماعت پر کئے۔آج جبکہ پہلی صدی میں سے چھتر سال اور ہمارے پیارے امام کے دور خلافت کے نہایت شاندار فتوحات اور برکات سے پُر پچاس سال گزر رہے ہیں ہمیں شکریہ کے طور پر اپنے مولا کے حضور یہ عہد کرنا چاہیئے کہ ہم ان امتیازی صفات کو جو مذکورہ آیت میں ایمانداروں کی بیان ہوئی ہیں اپنے وجودوں میں کامل رنگ میں ظاہر کریں گے اور پہلے سے بہت بڑھ چڑھ کر دین اسلام کی اشاعت کے لئے قربانیاں کریں گے اور آپس میں محبت و اخوت اور شفقت و ہمدردی کا وہ نمونہ دکھا ئیں گے جس کی نظیر دنیا کی کسی قوم اور جماعت میں نہ پائی جاتی ہو اور ہمارے وجود آیت بَعْضُهُم اَوْلِيَاءُ بَعْضٍ (الانفال : (۷۳) کی عملی تفسیر ہوں گے۔مالی قربانی کے لحاظ سے اس خوشی کے موقعہ پر ہمیں چاہیئے کہ ہم اپنے پیارے امام کی خواہش کو کہ ہمارا بجٹ کم از کم چھپیس لاکھ روپے ( مراد صدرانجمن احمدیہ کا بجٹ ) ہونا چاہیئے اس سال پورا کریں گے اور اس کے لئے مناسب تدابیر اختیار کریں گے اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔