تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 387
تاریخ احمدیت۔جلد 22 387 سال 1963ء (حضرت) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب صدرصد را انجمن احمدیہ کا تبصرہ: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کبار کے حالات زندگی جمع کرکے شائع کرنے کے سلسلہ میں مکرم ملک صلاح الدین صاحب ایم اے کی مساعی نہایت قابلِ قدر ہے۔اللہ تعالیٰ ان کی کوششوں کو بار آور کرے اور انہیں ان کے لئے اپنے پاس سے اجر عظیم دے۔آمین۔حال ہی میں مکرم ملک صاحب نے حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کے حالات قلمبند کر کے شائع کئے ہیں۔حضرت مولوی صاحب موصوف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بلند پایہ قدیم صحابہ میں سے ایک جلیل القدر صحابی ہیں جو مشن کالج پشاور کی پروفیسری کو چھوڑ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اجازت سے عنفوانِ شباب ہی میں عیسائیت کے خلاف علمی جہاد کی غرض سے قادیان آگئے۔انہوں نے اپنے تئیں سلسلہ کی خدمت کے لئے وقف کر دیا اور تن من دھن اس پر نثار کر دیا۔یہ کہنا مبنی بر حقیقت ہے کہ حضرت مولوی صاحب احمدیت کی مدافعت اور خلافت کی حفاظت کے لئے سینہ سپر رہے۔اور آپ کی ساری عمر خدمت دین میں گذری۔آپ کے علو مرتبت کا اس امر سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انہیں ۳۲ سال کی عمر میں ہی قادیان میں امام الصلوق اور خطیب مقر فر ما دیا تھا اور حضور علیہ السلام نے کئی بار آپ کی اقتداء میں نماز ادا کی اور حضرت خلیفہ اسیح ایدہ اللہ تعالیٰ نے کئی بار قادیان سے باہر تشریف لے جاتے وقت انہیں قائمقام امیر مقرر فرمایا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کرام ہمارے لئے مشعلِ راہ ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم میں سے ہر ایک ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے انہی کی طرح ہمیشہ دین کی خدمت پر کمر بستہ رہنے کا تہیہ کرلے اور یہ بھی ممکن ہے جبکہ ہمیں ان کے تفصیلی حالات کا علم ہو اور ہم یہ جانتے ہوں کہ کس طرح انہوں نے ہر آن اپنے تئیں خدمت دین کے لئے وقف رکھا اور دین کے لئے ہر قسم کی قربانیاں کیں۔پس میں احمدی احباب سے پر زور اپیل کرتا ہوں کہ اصحاب احمد جلد پنجم حصہ دوم خرید فرما دیں اور نہ صرف خوداس کا مطالعہ کریں بلکہ اپنے اہل وعیال کو بھی اس کی تلقین فرماویں۔خاکسار کی رائے میں یہ کتاب ہر احمدی گھرانے میں موجود ہونی چاہیے۔66 98 تابعین اصحاب احمد جلد سوم۔سیرت حضرت ام طاہر ( ملک صلاح الدین صاحب ایم اے ) ۹۔جماعت احمدیہ کے متعلق غلط فہمیوں کا ازالہ ( خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس)