تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 18 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 18

تاریخ احمدیت۔جلد 22 18 سال 1963ء کر جماعت احمد یہ رحیم یار خان سے خواہش کی کہ جلسہ نہ کیا جائے۔اس لئے جماعت احمدیہ نے افسران حکومت سے تعاون کرتے ہوئے کسی اور مقام پر جلسہ کرنے کا خیال بھی ترک کر دیا۔تا افسران حکومت کو کسی پریشانی کا سامنانہ کرنا پڑے۔یہ وہ صورت حال تھی جس سے متاثر ہوکر امیر جماعت احمد یہ رحیم یار خاں نے نہایت دردمندانہ دل کے ساتھ ایک مختصر سا پمفلٹ شائع کیا۔جس کا عنوان تھا جلسہ سیرت النبی علیہ سے رحیم یار خان کے معزز علماء کو شدید خطرہ“ اس پمفلٹ پر حضرات علماء سے یہ اپیل کی گئی کہ وہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ فرمائیں اور اپنی پوری زندگی اسوۂ رسول کے قالب میں ڈھال دیں۔کیونکہ عشق رسول کے جذبہ کا احیاء اور نظام اسلامی کا قیام اسی پر موقوف ہے۔اس محبت بھری درخواست کے جواب میں اراکین جمعیت اشاعت التوحید والسنتہ کی مسجد رحیم یارخاں کی طرف سے ایک پمفلٹ عوام مسلمانوں کو دھوکا دینے کی ناپاک سازش“ کے عنوان سے شائع کیا گیا۔جس میں جماعت احمدیہ کو دھوکا باز، فریبی ، منافق وغیرہ القاب سے یاد فرماتے ہوئے علمائے رحیم یار خان کو ناموس رسالت کا علمبر دار قرار دیا ہے۔اور مسلح مظاہرہ کروانے پر دل 17 کھول کر سراہا گیا۔حضرت چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کو شاہ مراکش کا خراج تحسین حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے اہل مراکش کے لئے جو شاندار خدمات سرانجام دیں مراکش کے شاہ حسن نے اپریل ۱۹۶۳ء میں حضرت چوہدری صاحب کو زبر دست خراج تحسین ادا کیا۔اس ضمن میں اخبار پاکستان ٹائمز (The Pakistan Times) کے خصوصی نامہ نگار مقیم نیویارک نے حسب ذیل خبر دی: "United Nations, April 4: Morocco's king Hassan spent most of his day at the United Nations today۔In the morning after a short private conference with U Thant on the 28th floor, he came down to the second floor for the inauguration of the mosaic panel, a gift from Morocco to the U۔N۔Short speeches were made right under the panel, while photographers and cameramen crowded on the steps of the