تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 303
تاریخ احمدیت۔جلد 22 303 سال 1963ء یہ غیر معمولی کامیابی دیکھ کر تمام ہندو تلملا اٹھے اور سرکاری افسران کو تار دئے کہ قادیانی مولوی کو اس کارروائی سے روکا جائے۔۸ ستمبر ۱۹۲۶ء سے ۳۱ اکتوبر ۱۹۲۶ء تک آپ نے ایک وفد کے ساتھ سیالکوٹ اور جموں کا کامیاب تبلیغی و تربیتی دورہ کیا اسی سال آپ چھ ماہ تک کراچی میں پیغام حق پہنچانے کا فریضہ انجام دیتے رہے۔اس سلسلہ میں دو عربوں سے آپ کی گفتگو بھی ہوئی۔۱۹۳۱-۳۲ ء میں آپ کا تبلیغی ہیڈ کوارٹر سیالکوٹ تھا اور آپ کے حلقہ تبلیغ میں سیالکوٹ، گوجرانوالہ گجرات اور شیخو پورہ کے اضلاع شامل تھے۔148 ۱۹۳۲ء میں آپ نے دہلی میں ایک غیر منقوط قصیدہ شائع کیا۔اس قصیدہ کے ساتھ ایک دوسرا قصیدہ اور سیکرٹری صاحب انجمن احمد یہ دہلی کا ٹریکٹ دعوت الی الحق بھی شائع ہوا۔یہ ٹریکٹ ۲۸ صفحات پر مشتمل تھا جس میں ا اصفحات کا حضرت مولوی صاحب کا رقم فرمودہ ایک مضمون تھا اور صفحات میں اس کا اردو میں خلاصہ درج کیا گیا تھا۔اس ٹریکٹ میں سیکرٹری صاحب نے علماء دہلی پر اتمام حجت کرتے ہوئے تحریر فرمایا۔”ہم نے مناسب سمجھا کہ اپنے مخالف علمائے کرام کو احقاق حق کا موقعہ دیں۔جس کے لئے ایک ٹریکٹ میں جو عر بی نظم و نثر میں ہدیہ ناظرین ہے علمائے کرام کو مخاطب کیا گیا ہے۔کہ اگر حقیقی معنوں میں وہی اسلام کے علمبردار ہیں تو بفحوائے آیت کریم لَا يَمَسُّه إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعة: ۸۰) ہمارے علماء حضرت علامہ مولوی غلام رسول صاحب فاضل را جیکی کے پہلو بہ پہلو بیٹھ کر زبان عربی میں تفسیر نویسی میں مقابلہ کریں۔اور شرط یہ ہوگی کہ صرف قرآن کریم غیر مترجم اور کا غذ سفید دستہ اور قلم دوات پاس رکھ کر تفسیر لکھی جائے اور اس کے سوا کوئی کتاب پاس رکھنے کی اجازت نہ ہو۔تا کہ دنیا دیکھ لے کہ قرآن کریم کے حقائق و معارف کس پر کھلتے ہیں اور کس کو اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت حاصل ہے اور ہم محض اللہ تعالیٰ کے خاص فضل پر بھروسہ کرتے ہوئے قرآن کریم کے کسی رکوع کے انتخاب کا حق بھی ان مخالف علماء کو دیتے ہیں۔اب سنجیدہ لوگوں اور ان حضرات سے جو خشیتہ اللہ رکھتے ہیں اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہمارے مخالف علماء کو اس چیلنج کے قبول کرنے پر آمادہ کریں۔اور اگر وہ اب بھی آمادہ نہ ہوں تو گواہ رہیں کہ آج ہم دہلی پر اتمام محبت کر چکے۔علمائے دہلی اس چیلنج پر دم بخودرہ گئے اور کوئی جواب نہ دیا۔۱۹۳۳ء میں آپ مرکزی ہدایت کے تحت بغرض تبلیغ لکھنو تشریف لے گئے جہاں تبلیغی جلسوں 149-