تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 302 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 302

تاریخ احمدیت۔جلد 22 302 سال 1963ء حضور کا پیغام پہنچا کہ آپ قادیان آجائیں چنانچہ آپ قادیان دارالامان پہنچے اور حضرت مسیح موعود کے مہمان خانے میں قیام فرما ہوئے۔اور آپ کے لئے پہلی ضیافت حضرت اماں جان نے کی اور کھانا تیار کر کے مہمان خانے میں بھجوا دیا۔خدا کی قدرت ہر لقمہ آپ کے لئے برکت کا باعث بنتا گیا۔اور آپ کو محسوس ہونے لگا کہ آپ کی طبیعت پر اچھا اثر پڑ رہا ہے۔دو تین روز بعد آپ حضرت مصلح موعود کے حکم سے لاہور آ گئے۔یہاں آپ کے اہل وعیال تھے۔لاہور آ کر ایک رؤیا کی بنا پر آپ نے درس قرآن کا سلسلہ شروع فرما دیا۔جس کے نتیجہ میں آپ کو اس تکلیف سے جلد شفا حاصل ہوگئی۔جن دنوں شدھی کی تحریک زوروں پر تھی حضرت مصلح موعود نے مسلمانوں کو تحریک فرمائی کہ اپنے تجارتی کاروبار کو وسیع کر کے اور اپنی دوکانیں کھول کر اپنی مفلسی دور کریں۔اس غرض کے لئے حضور نے ایک تنظیم کے ماتحت مبلغین کو مختلف علاقوں میں بھجوایا۔اسی سلسلہ میں حضرت مولوی صاحب کو جھنگ شہر میں متعین کیا گیا۔جھنگ میں ان دنوں میاں شمس دین صاحب شہر کے زیادہ بااثر معزز اور شریف طبع رئیس میونسپل کمشنر تھے۔حضرت مولانا ان کی رہائش گاہ پر پہنچے اور حضرت مصلح موعود کی سکیم سے آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ مقاصد تو اچھے ہیں لیکن کسی قادیانی کے لئے یہاں بیٹھنا تو در کنار کھڑا ہونے کی بھی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ابھی یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ میاں صاحب کو گھر سے اطلاع ملی کہ ان کی لڑکی جس کو آٹھواں مہینہ عمل کا ہے بوجہ تے قریب مرگ ہے۔پیغامبر کی اس اطلاع پر آپ نے باہر نکلتے ہوئے السلام علیکم کہا اور پنجابی میں یہ بھی کہا اچھا نسیں وسدے بھلے اسیں چلدے بھلے۔ابھی آپ نے دو ایک قدم ہی باہر اٹھائے تھے کہ میاں صاحب نے کہا آپ ذرا ٹھہر جائیں اور اس مرض کے لئے کوئی نسخہ بتا جائیں۔آپ نے نسخہ بتایا جس سے مریضہ کی قے پانی پیتے ہی رک گئی اور طبیعت فورا سنبھل گئی۔یہ کرشمہ قدرت دیکھ کر انہوں نے آپ کی خدمت میں درخواست کی کہ آپ میرے ہاں ٹھہریں۔میں روزانہ شہر میں منادی کرا کے مسلمانوں کو اکٹھا کرنے کا انتظام کروں گا۔چنانچہ وہ حسب وعدہ روزانہ جلسے کا انتظام کرتے اور خود اپنی صدارت میں ان کی تقریر کرواتے۔ان کے اثر رسوخ اور وقار کی وجہ سے لوگ جوق در جوق جلسہ میں آتے اور آپ کی تقریر کو سنتے یہاں تک کہ شہری مسلمانوں میں اپنی اقتصادی حالت سنوارنے کے لئے خوب بیداری پیدا ہوگئی۔۸۰ کے قریب مسلمانوں کی نئی دوکانیں شہر میں کھل گئیں اور جود کا نہیں اور کاروبار پہلے موجود تھا زیادہ بارونق ہو گیا۔