تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 301
تاریخ احمدیت۔جلد 22 301 سال 1963ء کیا جس میں بعض غیر احمدی معززین بھی باقاعدہ شامل ہوتے تھے۔کنانور کے ایک نہایت مخلص احمدی دوست عبدالغفار کنجی صاحب جو اردو بھی جانتے تھے آپ کی ترجمانی کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے ان تبلیغی مساعی کے نتیجہ میں دونوں شہروں میں پچاس کے قریب افراد سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔دوران قیام آپ نے چانگام سے آنے والے مخالف علماء کوتحریری اور تقریری مقابلہ کا بھی چیلنج کیا مگر وہ مقابلے پر نہ آئے اور جلد ہی کسی اور جگہ چلے گئے۔اسی دوران آپ شدید طور پر بیمار ہو گئے۔پہلے بخار ہوا۔پھر ایک دنبل نمودار ہوا جو بڑھتے بڑھتے شلغم کے برابر ہو گیا اس شدید علالت میں بھی آپ نے درس و تبلیغ کے کام میں ناغہ کرنا گوارہ نہ کیا۔آپ کو بار بار آرام کرنے کا مشورہ دیا گیا مگر آپ یہی فرماتے رہے کہ معلوم نہیں ابھی اور کتنی زندگی باقی ہے یہ آخری لمحات تو اس مقدس فریضہ کی ادائیگی میں گزار لیا جائے۔یہ بخار اور دنیل دونوں مجھے پیغام اجل کے لئے ہوشیار کر رہے ہیں۔ایسی صورت میں تغافل شعاری اچھی نہیں“۔ایک ماہر ڈاکٹر نے آپ کا آپریشن کیا اور یہ رائے دی کہ یہ مریض بچتا نظر نہیں آتا۔خود آپ نے بھی یہی سمجھا کہ میری موت غریب الوطنی میں مقدر ہو چکی ہے۔آپ نے وصیت فرمائی کہ اگر میری وفات اسی سرزمین میں واقع ہو جائے تو مجھے کسی ٹیلہ کے پاس دفن کر کے میری لوح مزار پر صرف یہی شعر لکھ دینا ع نباشد شرط عشق است دوست ره بردن در طلب مردن یعنی اگر محبوب تک پہنچا ممکن نہیں تو اس کی تلاش میں مرجانا عاشق کے لئے بہتر ہے۔اس وصیت کے بعد آپ کو بذریعہ رویا بشارت دی گئی کہ آپ اس بیماری سے شفایاب ہو جائیں گے۔حضرت مصلح موعود کا پیغام موصول ہوا کہ مدراس میں ایک امریکن ڈاکٹر اس مرض کے علاج کا ماہر ہے بہتر ہے کہ علاج وہاں کرایا جائے۔چنانچہ آپ احباب مالا بار سے رخصت ہو کر خشکی کے راستہ مدراس پہنچے۔امریکن ڈاکٹر نے کہا کہ علاج اس شرط پر کیا جائے گا کہ مریض کے پاس کوئی تیمار دار نہ رہے۔مگر حضرت مصلح موعود نے اس کی اجازت نہ دی اور ارشاد فرمایا پانی پت آکر حضرت میر محمد اسمعیل صاحب سے علاج کروایا جائے۔چنانچہ آپ بمبئی سے ہوتے ہوئے پانی پت پہنچے جہاں