تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 287
تاریخ احمدیت۔جلد 22 287 سال 1963ء سے پڑھنے کا موقع حاصل کرنے والا نہ ہو سکا باطل ثابت کر رہا ہے۔اور ایک جرنیل اسلام ہونے کا دعویدار مسیح محمدی کے ایک رنگروٹ کے سامنے ذلت آلود ندامت اور شکست کے ساتھ پسپا ہو گیا۔میں نے للکار کر اس وقت کہا کہ کیا مولوی ثناء اللہ امرتسری کا یہ بجز اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا قوت اعجاز کی روح سے بھرا ہواز بر دست نشان نہیں تو پھر اور کیا ہے۔احمدیت کی اس فتح اور مولوی ثناء اللہ کی اس تازہ شکست سے حاضرین پر بہت ہی اچھا اثر پڑا۔اور بعض فوجی سپاہی جو وہاں آئے ہوئے تھے بعد میں مجھے بلا کر انہوں نے کچھ مسائل سمجھے اور احمدیوں کی علمی طاقت اور دلائل کی بہت تعریف کی اور بعض نے بیعت کرنے کا بھی وعدہ کیا۔فالحمد للہ علی ذالک۔وسط ۱۸۹۹ء میں آپ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں ایک منظوم مکتوب لکھا جس کے جواب میں حضرت مولا نا عبدالکریم صاحب نے حسب ذیل عربی مکتوب لکھا:۔”بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لـوليه والصلواة والسلام على رسوله و نبيّه و آله، اما بعد فسلام علیک ورحمة الله و بركاته يا اخى قد تشرف مكتوبك المنظوم لدى المولانا المسيح الموعود ايده الله فَسر مطالعته الجناب المذكور غاية السرور و اثنی علیک بما اودعت من وُدّك و اخلاصك۔فيالقوم لمعرفة امام زمانهم و شَدُّوا علی الایمان به بالنواجذ فهم قوم رضى الله عنهم ورضوا عنه وسوف يجعلهم الله فوق الذين اصروا على الانكار وَ جَهدوا بآياته وَسَلّم منا على اخنا المولوى امام الدین عبدالکریم سے جولائی ۱۸۹۹ء۔( ترجمہ ) سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں اور درود و سلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی آل پر ہو۔اس کے بعد آپ پر سلام اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں۔اے میرے بھائی آپ کا منظوم خط سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس پہنچا۔حضور اس کے مطالعہ سے بہت خوش ہوئے اور آپ کی محبت اور اخلاص کی وجہ سے آپ کی تعریف فرمائی۔اے وہ قوم جس کو امام الزماں کی شناخت اور ایمان کی مضبوطی کی توفیق ملی۔یہی وہ لوگ ہیں جن سے خدا راضی ہوا اور وہ خدا سے راضی ہو گئے۔اللہ تعالیٰ عنقریب ان کو ان لوگوں پر غالب کر دے گا جنہوں نے انکار پر اصرار کیا اور خدا تعالیٰ کے نشانوں سے منہ موڑا۔ہماری طرف سے ہمارے بھائی مولوی امام الدین صاحب کو السلام علیکم پہنچا دیں۔عبدالکریم سے جولائی ۱۸۹۹ء‘“