تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 269
تاریخ احمدیت۔جلد 22 269 سال 1963ء سے پابند تھے اور کہا کرتے تھے کہ میرا جو بچہ با قاعدہ نماز نہ پڑھے گا میں اس کے گھر نہیں جاؤں گا۔آپ وٹرنری ڈاکٹر تھے لیکن مایوس مریض بھی دُور دُور سے علاج کے لئے آتے اور شفایاب ہو کر جاتے تھے۔ریٹائرڈ ہونے کے بعد ۵/۴ دارالرحمت غربی ربوہ میں ہی قیام پذیر تھے اور یہیں ۱۴ اگست ۱۹۶۳ء کو ۵ بجے شام وفات پائی۔آپ موصی تھے بہشتی مقبرہ میں خاص قطعہ صحابہ بانی سلسلہ احمدیہ میں مدفون ہوئے۔آپ کی اولاد میں ۴ بیٹے اور ۴ بیٹیاں ہیں۔سب کو اچھی تعلیم دلائی اور احمد بیت کی محبت ان کے دلوں میں ڈال دی۔بچوں کو بچپن سے ہی چندہ دینے کی تحریک کرتے تھے۔حلقہ احباب نہایت وسیع تھا حضرت میرزا بشیر احمد صاحب ، حضرت حافظ مختار احمد صاحب شاہجہان پوری، حضرت مولانا غلام رسول را جیکی صاحب جیسے اعلیٰ پایہ کے بزرگان دین سے گہرے مراسم تھے۔قدرت ثانیہ کے مظہر اول کی درس و تدریس کی مجلسوں میں بھی شمولیت رہی۔آپ نے ۵ نومبر ۱۹۰۵ء میں بمقام لدھیانہ ۹ سال کی عمر میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔گو کہ پیدائشی احمدی تھے۔مریضوں، ناداروں ، بیواؤں اور یتیموں کا بہت خیال رکھتے تھے۔اور حتی الوسع مدد بھی کرتے تھے۔لیکن ریاء کا پہلو کبھی نمایاں نہ ہوتا تھا۔صبح سویرے محلے میں نماز کے لئے جگانے کے لئے اور اکثر مریضوں کے گھروں میں عیادت کے لئے تشریف لے جاتے۔آپ کے ہاتھ میں شفا بہت تھی۔حافظہ بڑے غضب کا تھا حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے بہت سے اشعار زبانی یاد تھے۔بڑے باخدا تھے۔جلسہ سالانہ کے موقع پر تمام عزیز واقارب کو اپنے ہاں آنے اور ٹھہرنے کی دعوت دیتے اور ان کی آمد اور اپنے ہاں ٹھہرانے میں خوشی محسوس کرتے۔اسی طرح رمضان شریف کا خاص اہتمام کرتے۔با قاعدہ برگزار تھے۔خاندان حضرت بانی سلسلہ سے خاص انس تھا حضرت فضل عمر سے خاص محبت تھی۔سلسلہ عالیہ احمدیہ میں شمولیت پر خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتے کہ یہ انعام محض اس کے فضل و احسان سے حاصل ہوا ہے نظام جماعت سے وابستگی کی تلقین فرماتے تھے۔نہایت دعا گواور متوکل تھے۔احمدیت کی ہر تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے۔اپنے پرایوں سے بڑی محبت اور ہمدردی سے پیش آتے تھے۔108 اولاد بیٹے : مکرم سید محمد منظور صاحب مرحوم، مکرم سید ظہور احمد شاہ صاحب مرحوم، مکرم سید مسعود احمد شاہ صاحب مرحوم، مکرم سید مقبول احمد شاہ صاحب مرحوم۔تہجد 166