تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 241
تاریخ احمدیت۔جلد 22 241 سال 1963ء تھے۔صفائی اور سادگی کا ایک چلتا پھرتا نمونہ تھے۔خلوت کو جلوت پر مقدم رکھتے تھے اور بہت کم گو 42 اولاد شریف احمد صاحب ، عزیز احمد صاحب (لندن) حضرت مولوی فضل دین صاحب آف مانگٹ اونچا ولادت ۱۸۸۸ء بیعت : ۱۹۰۴ء وفات : ۲۷ جنوری ۱۹۶۳ء۔ابتدائی تعلیم ڈی وی سکول حافظ آباد میں حاصل کی۔بچپن سے ہی علم جغرافیہ سے بہت دلچپسی تھی۔ابتداء میں آپ کے والد سجاول صاحب اور خود بھی احمدیت کے سخت مخالف تھے۔والد صاحب نے تو آخری عمر میں سال ۱۹۳۹ء میں بیعت کی لیکن مولوی صاحب اپنے خسر محمد دین صاحب اور خالہ مریم بی بی صاحبہ کی تبلیغ سے ۱۹۰۴ء میں داخل احمدیت ہو گئے اور لمبا عرصہ تک حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی سے اکتساب فیض کیا اور قرآن پڑھنے کی تو فیق ملی۔آپ خلافت ثانیہ کے ابتدائی زمانہ میں کئی سال تک جماعتی مدرسہ مانگٹ اونچے کے مدرس رہے بعد ازاں دو تین سال تک انسپکٹر بیت المال کی حیثیت سے ضلع گوجرانوالہ، گجرات، شاہ پور، جھنگ، ملتان، منٹگمری ، جالندھر اور لدھیانہ کے اضلاع کا دورہ کیا اور درس کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔۱۹۲۸ء سے ۱۹۳۳ء تک آپ شیخو پورہ میں درس و تدریس میں مصروف رہے۔ازاں بعد آپ نظارت دعوت و تبلیغ کی طرف سے یوپی کے مختلف شہروں میں درس قرآن دیتے رہے۔مثلاً مین پوری، فرخ آباد، آگرہ ، سہارن پور، شاہجہان پور لکھنو، دہلی، کانپور، صالح نگر،ساندھن۔یوپی میں آپ یکم اکتوبر ۱۹۳۴ء سے لے کر ۱۹ / جولائی ۱۹۴۷ء تک تبلیغی خدمات بجالاتے رہے۔بعد ازاں آپ کو امیر جماعت حیدر آبا دسید بشارت احمد صاحب کی درخواست پر حیدر آباد دکن میں متعین کیا گیا۔قیام حیدر آباد دکن کے دوران یاد گیر، اوٹ کور، چنتہ کنٹہ، تیما پور، حیدر آباد اور سکندر آباد کی مخلص جماعتوں میں تعلیم قرآن کا زبر دست ولولہ اور ذوق و شوق پیدا ہوا اور خصوصاً حضرت میر محمد سعید صاحب، حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب، حضرت سیٹھ محمد غوث صاحب اور حضرت سید بشارت احمد صاحب کے مشہور احمدی خاندانوں کی بیگمات اور صاحبزادیاں آپ کے ذریعہ قرآن شریف کی آسمانی نعمت سے خوب فیضیاب ہوئیں۔