تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 234 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 234

تاریخ احمدیت۔جلد 22 234 سال 1963ء مذہب حضرت احمد مسیح موعود کی تحریرات اور خود ان کے اپنے سابقہ مذہب کے خلاف ہے ، (اگست ۱۹۴۰ء) (۶) چودھویں صدی کا مجد دکون ہے؟ جميع فرق اسلامیہ کے لئے بیس ہزار روپے کا انعامی چیلنج۔یکم اکتو بر۱۹۵۲ء مر مطبوعه کتب و متفرق رسائل 25 (۱) وفاق المسیح مفصل (۲) مطیع نبی (۳) در منشور (۴) خطاب به بنی اسرائیل (۵) تذکره آل عمر (1) تاریخ بنی اسرائیل قلمی (۷) پشتو لغات (۸) تفسیر القرآن چارجلد (۹) عیسائیت قدیم یہودیت کا چربہ (۱۰) احمد کا کام (۱۱) الفرقان (۱۲) مظہر العجائب۔اس بلند پایہ لٹریچر کے علاوہ حضرت قاضی صاحب کے قلم سے الحکم، بدر، ریویو آف ریلیجنز اردو، فاروق اور الفضل میں متعد د مضامین شائع ہوئے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے ”سیرت المہدی کی تین جلدوں میں آپ کی بیان فرمودہ کئی ایمان افروز روایات شامل فرمائی ہیں۔سرحد میں سب سے پہلے آپ نے پشتو اور فارسی میں رسائل اور کتا بیں شائع کیں۔۱۹۱۲ء میں قرآن کریم با ترجمه و تفسیر سنایا اور آسٹریلیا، برما، جزائر شرق الہند، ایران، افغانستان ، بلوچستان، بنگال، کشمیر، حیدر آباد دکن، آزاد قبائل میں آپ کی تصانیف بکثرت پہنچیں۔افغانوں کا احمدیت سے متعلق سرمایہ علم عرصہ دراز تک آپ ہی کی کتب رہیں۔قمر الانبیاء حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے آپ کی وفات پر حسب ذیل نوٹ سپر د قلم فرمایا :۔حضرت قاضی صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدیم صحابی تھے اور عرصہ دراز تک جماعت ہائے احمد یہ صوبہ سرحد کے امیر رہے۔اور ان کے ذریعہ کثیر التعدادلوگوں نے احمدیت کو قبول کیا۔بہت مخلص اور سلسلہ احمدیہ کے فدائی بزرگ تھے اور کئی کتابوں کے مصنف بھی تھے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔اور ان کی اولا د اور دیگر عزیزوں کا دین و دنیا میں حافظ و ناصر ہو۔حضرت قاضی صاحب کے شمائل و عادات مکرم و محترم کیپٹن محمد سعید صاحب دارالرحمت غربی ربوہ حضرت قاضی صاحب کے شمائل و اوصاف کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔