تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 208 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 208

تاریخ احمدیت۔جلد 22 208 سال 1963ء لیکن اس کے باوجو د خدائے ذوالجلال نے اس مٹی کو ایسا نواز دیا ہے کہ بس ہر طرف سے لوگ کھینچے چلے آتے ہیں۔جے ایس سعادت بزور بازو نیست ۲۸ دسمبر کا پہلا اجلاس ختم ہوا تو مجھے دو جرمنوں اور ایک انڈونیشی مسلمان سے ملاقات کا موقع ملا۔انڈونیشی انگریزی آہستہ آہستہ بولتا تھا۔مگر اسلام کے لئے سرتا پا محبت تھا۔اُس کا کہنا تھا کہ اگر اس جماعت کا انڈونیشیا میں مرکز نہ ہوتا تو آزادی کی جدوجہد کے ایام میں شاید ہمارا سارا ملک ہی کمیونسٹ بن چکا ہوتا۔مگر ان مبلغوں نے ہمیں اسلام صرف بتایا ہی نہیں اُس پر قائم رہنے میں بھی مدددی۔افسوس کہ مجھے ایک شادی میں شرکت کی وجہ سے وہاں سے جلد لوٹنا پڑا۔لہذا مجبوراً اٹھ کھڑا ہوا۔اُس وقت اسٹیج سے کوئی احمدی شاعر اپنے اس شعر سے میرے دلی جذبات کی ترجمانی کر رہا تھا۔یہ بزم ناز ہے کس جاں نثار دین احمد کی یہاں تو سرنگوں ہے کجکلاہوں کی رعونت بھی مگر میں سارا رستہ یہی سوچتا رہا۔ہمارے ملا لوگ بھی خوب ہیں انہوں نے تکفیر سازی کواب با قاعدہ پیشہ ہی بنالیا ہے۔یہ نہ خود کام کرتے ہیں نہ دوسروں کو کرنے دیتے ہیں۔اور دین کے نام پر ایسے ایسے جھوٹ بولتے ہیں کہ بے دینی بھی ان کی مکاریوں سے پناہ مانگ اٹھتی ہے۔کجا یہ کہ باہر یہ پھیلایا جاتا ہے کہ ان لوگوں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے مقابل پر اپنا ایک نیا نبی گھڑ رکھا ہے۔اور کجا یہ حقیقت کہ یہاں کا ذرہ ذرہ دل و جان سے آمنہ کے اُس رسول پر فدا ہے۔سمجھ میں نہیں آتا۔یہ محدود علم کے لوگ کب تک کیچڑ کی دیوار میں بن کر حق کی تلاش کرنے والوں کا راستہ روک کر کھڑے رہیں گے۔اللہ ہر ایک کو یہ توفیق دے کہ وہ اجہلوں کی ہر قسم کی لعنت و ملامت سے بے نیاز ہو کر اس جماعت کی طرح اُس روشنی کو پھیلانے کی سعادت حاصل کرے جو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے وجو د باجود کی صورت میں ہمیں نصیب ہوئی۔آمین۔257