تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 207 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 207

تاریخ احمدیت۔جلد 22 207 سال 1963ء (ترجمہ) ”میرے بھائیو! میں سوئٹزرلینڈ سے آیا ہوں۔سوئٹزر لینڈ کی جماعت نے آپ کی خدمت میں السلام علیکم کے بعد دلی شکریہ کا نذرانہ بھی بھجوایا ہے کیوں کہ آپ سب نے بڑی محبت کے ساتھ سوئٹزر لینڈ کی مسجد کی تعمیر میں حصہ لیا ہے۔میں آج آپ لوگوں سے خطاب کرتا ہوا پھولا نہیں سما تا کہ آپ کی اسلام کی محبت کے طفیل ہمیں بھی اسلام جیسی نعمت غیر مترقبہ ملی۔اور وہاں بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے شیدائیوں کی ایسی ایک جماعت پیدا ہوئی۔جو صبح سویرے اٹھتے اور رات کو بستروں میں گھتے وقت اب اپنے سینوں پر صلیب کا نشان بنانے کی بجائے لا اله الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھتی ہے۔“ سبحان اللہ اس مختصر سی تقریر میں کتنا اثر اور جذب تھا کہ ہر طرف سے نعروں کا غلغلہ بلند ہو گیا اور میرے اردگر داس تقریر کو سن کر کتنے ہی آپ ٹو ڈیٹ احباب کے گالوں پر محبت اور مسرت کے آنسو بہہ نکلے۔اس خوشی میں کہ مولا کریم نے انہیں ایک اور ملک میں اللہ اور اس کے پیارے رسول کا نام پہنچانے کی توفیق دی۔یہیں کرسیوں والے بلاک ہی میں مجھے میرے ایک لائکپوری پروفیسر مل گئے۔انہوں نے رات کے کسی اجلاس کی کارروائی سنائی۔جس میں چار درجن کے لگ بھگ بیرونی مشنریوں نے حاضرین کو خطاب کیا تھا۔اپنی اپنی زبان میں اُن کی زبانیں مختلف تھیں۔لہجے مختلف تھے۔اُن کے رنگ اور چہروں کے نقوش بھی ایک دوسرے سے مختلف تھے۔لیکن جب وہ اپنی تقریروں کے دوران میں ہمارے پیارے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے تھے۔یا قرآن کی کسی آیت اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی کوئی حدیث تلاوت کرتے تھے تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سب ایک ہی درخت کے پھل ہیں۔ایک ہی باپ کے بیٹے ہیں۔جنہیں اس جماعت کے بانی نے اپنے آقا و مولا کے نام پر اُسی کے دین کی اشاعت کے لئے یکجا کر کے ”جامع المتفرقين “ کا خطاب حاصل کر لیا ہے۔اس بے آب و گیاہ زمین کے بھی عجیب بھاگ جاگے ہیں۔سرکاری کاغذات میں یہ صدیوں سے بنجر قدیم اور بے آب و گیاہ چلی آ رہی تھی۔لیکن آج اس کے سینے پر ستر اسی ہزار مسلمان ٹھہرے ہوئے تھے جو اس کڑاکے کی سردی میں اس فکر زدہ زمین پر صرف اس لئے اپنے آرام و آسائش کو حج کر آئے تھے کہ خدائے قدوس کی توحید کے ترانے گائیں اور اس کی عظمت کے راگ الا ہیں۔یہاں نہ کوئی ہوٹل ہے، نہ سینما، نہ تماشا گاہ ہے نہ کوئی ریس کورس ہے اور نہ کوئی تفریحی پارک