تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 6
تاریخ احمدیت۔جلد 22 6 سال 1963ء رکھتے ہیں کہ بین الاقوامی تعلقات کے استحکام میں مختلف مذاہب کے باہمی تعلقات کو بہت اہم مقام حاصل ہے۔سرظفر اللہ لکھتے ہیں :۔موجودہ عالمی صورت حال میں مختلف اقوام کے لئے یہ امر از بس ضروری ہے کہ وہ بہتر انداز کی باہمی افہام و تفہیم کے ذریعہ ایک دوسرے کے قریب تر آجائیں۔ایٹمی دور میں یہ بنیادی عقیدہ کہ ایک ہی بالا ہستی ہے جو اس کائنات کی خالق ہے بنی نوع انسان کی نجات کے حق میں منفرد امید کی حیثیت رکھتا ہے۔انسانی تعلقات کے دائرہ میں مذہب کو ایک اور اہم بنیادی عامل کی حیثیت حاصل ہے اور اس امید کی بہت کافی وجہ جواز موجود ہے کہ یہ عامل یعنی مذہب رفتہ رفتہ مستقبل میں افتراق اور باہمی جھگڑوں کا ذریعہ بنارہنے کی بجائے اتحاد اور باہمی ربط و ضبط کو بڑھانے کا زیادہ کارگر اور مؤثر ذریعہ ثابت ہوتا چلا جائے گا۔اندریں حالات یہ جاننا اور سمجھنا بہت ضروری ہے کہ اسلام دوسرے مذاہب کے تعلق میں کیا رویہ اختیار کرتا ہے“۔سرظفر اللہ نے بتایا کہ مسیح (علیہ السلام ) اور بہت سے دوسرے انبیائے بنی اسرائیل کا ذکر قرآن نے نام لے لے کر کیا ہے۔مسلمانوں کے عقیدہ کے بموجب یہ وہ صحیفہ آسمانی ہے جو اس وحی پر مشتمل ہے جو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر نازل ہوئی۔مسلمانوں کے نزدیک قرآن کی وہی اہمیت ہے جو عیسائیوں اور یہودیوں کے نزدیک بائبل کی ہے۔مسلمان حضرت مسیح اور حضرت مریم“ کی خاص تکریم و تعظیم کرتے ہیں اور حضرت مسیح علیہ السلام پر نازل ہونے والی وحی کو تو بار بار ہدایت اور نور کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔اسلامی تعلیم کی مزید وضاحت کرتے ہوئے آپ نے توجہ دلائی ہے کہ اسلام میں نہ صرف یہ کہ ایک قوم پر دوسری قوم کے قبضہ و تسلط کی مذمت کی گئی ہے بلکہ ایک ملک کے خلاف دوسرے ملک یا قوم کی اقتصادی لوٹ کھسوٹ اور ناجائز فائدہ کو بھی یکساں طور پر قابل مذمت ٹھہرایا گیا ہے۔آپ نے اس امر پر خاص طور پر زور دیا ہے کہ قرآن نے معاہدوں اور عہد ناموں کے پورے پورے احترام اور ان کے ایفاء کو بڑی شدومد کے ساتھ پیش کیا ہے اور لازمی قرار دیا ہے کہ یہ معاہدے پورے طور پر نافذ العمل ہو کر قوموں اور ملکوں کو باہم متحد کرنے اور انہیں زیادہ طاقتور بنانے کا موجب ہونے چاہئیں۔اگر چہ آپ نے روس کی طرف جود ہریت کا قائل ہے اور دوسری جنگ عظیم کے بعد اس کے