تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 193 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 193

تاریخ احمدیت۔جلد 22 193 سال 1963ء طاقت ور حملہ آوروں کو پسپا کرو۔شرک جن مختلف رنگوں میں مسلمانوں میں جڑ پکڑ رہا ہے۔آپ نے اُن کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا کہ جماعت احمدیہ کا خاص طور پر فرض ہے کہ ان رسومات کی اصلاح کرے اور تو حید کو اس کی اصلی شکل میں پیش کرے۔آپ نے فرمایا ممبران جماعت کو عہد یداروں کے انتخاب میں تقویٰ، پر ہیز گاری اور دیانت داری کو مقدم رکھنا چاہئیے۔خلافت سے وابستگی اور اس کے استحکام کے لئے پُر زور کوشش کریں ، صداقت مسیح موعود کو عملی نمونہ سے قائم کریں اور اپنی اولادوں کی بھی فکر کریں۔بعد ازاں صدر جلسہ شیخ رحمت اللہ صاحب امیر جماعت احمدیہ کراچی نے مقررین اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور حضرت مصلح موعود کی صحت کاملہ عاجلہ کے لئے دعا اور صدقہ کی تحریک کی۔اجتماعی دعا پر جلسہ کامیابی سے اختتام پذیر ہوا۔مسلسل بارش کے باوجود اجتماع میں بشمول مستورات قریباً تین ہزار حاضری تھی۔متعدد غیر از جماعت دوستوں نے بھی شرکت فرمائی۔جماعت کراچی کی طرف سے سب احباب کے دو پہر کے کھانے کا تسلی بخش انتظام تھا۔237 حضرت سیدہ ام وسیم صاحبہ کا انتقال پر ملال قمرالانبیاء حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے انتقال کے تین ماہ بعد ام وسیم حضرت سیدہ عزیزہ بیگم صاحبہ حرم حضرت مصلح موعود بھی ۵ دسمبر ۱۹۶۳ء کی رات اپنے خالق حقیقی سے جاملیں۔اس طرح جماعت کو ایک اور قومی صدمہ اور ملی نقصان سے دو چار ہونا پڑا۔آپ کی نماز جنازہ اگلے روز (حضرت ) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے بہشتی مقبرہ کے احاطہ میں پڑھائی جس میں ربوہ اور پاکستان کے طول و عرض سے آنے والے قریباً چھ ہزار خلصین شریک ہوئے۔آپ کا جسد خا کی حضرت اماں جان کے مزار مقدس کی چار دیواری میں سپرد خاک کیا گیا۔حضرت سیدہ ام وسیم حضرت مسیح موعود کے صحابی حضرت سیٹھ ابو بکر یوسف صاحب آف جدہ کی بڑی صاحبزادی تھیں جو یکم فروری ۱۹۲۶ء کو حضرت مصلح موعود کے عقد میں آئیں۔آپ کا 239 238 240 وجود ایک خدائی نشان کی حیثیت رکھتا تھا کیونکہ آپ اُن خوش نصیب خواتین مبارکہ میں سے تھیں جو اللہ تعالیٰ کے پاک وعدہ کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مبارک خاندان میں داخل