تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 189
تاریخ احمدیت۔جلد 22 189 سال 1963ء مکرم عثمان غنی صاحب اور مکرم عبد الرحیم صاحب ( مشرقی پاکستان ) کی شہادت نومبر ۱۹۶۳ء میں مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) کے شہر برہمن بڑیہ کے سالانہ جلسہ پر غیراحمد یوں نے حملہ کر دیا اور شدید پتھراؤ کیا جس کے نتیجہ میں بہت سے احمدی شدید زخمی ہو گئے۔ان میں دو دوست مکرم عثمان غنی صاحب اور مکرم عبد الرحیم صاحب زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے راہ مولیٰ میں قربان ہو گئے۔ان شہداء کے حالات بیان کرتے ہوئے حضرت خلیفۃ اسیح الرابع نے فرمایا :۔۳ نومبر ۱۹۶۳ء کو احمدیہ جماعت برہمن بڑیہ کا سالانہ جلسہ بعد نماز مغرب لوک ناتھ ٹینک کے میدان میں مکرم سید سہیل صاحب سی ایس پی کی زیر صدارت شروع ہوا۔سید سہیل احمد صاحب سی ایس پی آج کل اسلام آباد میں ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ اور ان کا سارا خاندان بہت مخلص ہے۔وہ اس وقت ڈھا کہ میں حکومت کے ڈپٹی سیکرٹری بھی تھے اور خدام الاحمدیہ میں اسٹنٹ ریجنل قائد کے عہدہ پر فائز تھے۔یعنی بڑے عہدوں پر فائز ہونے کے باوجود بھی انہوں نے خدمات دینیہ سے سرمو انحراف نہیں کیا۔بڑی جرات سے عہدے لیا کرتے تھے اور بڑی جرات سے اور عمدگی سے ان کو نبھاتے تھے۔جلسہ شروع ہوئے دس پندرہ منٹ گزرے تھے کہ ملاؤں نے ہلہ بول دیا اور جلسہ گاہ پر شدید پتھراؤ کیا۔مخالفین نے جلسہ گاہ کی تاریں کاٹ دیں جس سے سارے علاقے میں اندھیرا چھا گیا۔لوگ ادھر ادھر بکھر گئے۔محترم سید سہیل احمد صاحب اور بعض دوسرے احمدیوں نے کرسیاں سر پر رکھ کر اپنی حفاظت کی۔مخالفین کے ہلہ بولنے کے بہت دیر بعد پولیس جب وقوعہ پر پہنچی تو وہ اس طوفانی بارش کے بعد نظر آئی جو خدا تعالیٰ نے اس موقع پر معجزانہ طور پر نازل فرمائی تھی اور جس سے خود دشمن ہی تتر بتر ہو چکا تھا۔دشمن کے اس حملہ کے نتیجے میں بہت سے احمدی احباب زخمی ہوئے جنہیں رات کے وقت برہمن بڑا یہ ہسپتال میں داخل کروایا گیا۔ان میں سے دو دوست مکرم عثمان غنی صاحب اور مکرم عبد الرحیم صاحب کی حالت بہت نازک تھی اور وہ شدید زخموں سے جانبر نہ ہو سکے اور اگلے روز ۴ نومبر ۱۹۶۳ کی صبح کو دونوں اپنے مولائے حقیقی کے حضور حاضر ہو گئے اور شہادت کا رتبہ پایا۔انا لله و انا اليه راجعون شهید عثمان غنی صاحب شاہ طور یہ ضلع مانک گنج کے رہنے والے تھے اور اپنے خاندان میں پہلے احمدی تھے۔نہایت مخلص، خاموش طبع ، خدمت گزار اور نرم خوشخصیت کے حامل تھے احمدی ہونے کے