تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 182
تاریخ احمدیت۔جلد 22 نیز فرمایا:۔182 سال 1963ء د میں اس بات کا اظہار کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ آپ احمدی پہلے ہیں اور خدام الاحمدیہ بعد میں اور 228 66 حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک احمدی کو جود یکھنا چاہتے ہیں ہمیں وہ احمدی بننا چاہیئے۔اگر چہ ذیلی تنظیمیں الگ الگ بنائی گئی ہیں لیکن ان سب کا مقصد ایک ہی ہے کہ وہ غلبہ اسلام کے لئے اپنی استعدادوں اور صلاحیتوں کا بھر پور استعمال کریں اور ان سب کی مجموعی کاوش سے مردان حق مستقر کا یہ قافلہ جادہ سٹیم پر رواں دواں رہے اور کامیابیوں سے ہمکنار ہوتار ہے۔سید نا حضرت مصلح موعود نے ۲۰ جولائی ۱۹۴۵ء کو خطبہ جمعہ کے دوران فرمایا تھا:۔خدام الاحمدیہ نمائندے ہیں جوش اور امنگ کے اور انصار اللہ نمائندے ہیں تجربہ اور حکمت کے۔اور جوش اور امنگ اور تجربہ اور حکمت کے بغیر کوئی قوم 229 کامیاب نہیں ہوسکتی۔یہ ایک نہایت قیمتی اور پر معارف ہدایات اور ارشادات پر مبنی مقالہ تھا جس نے فرزندانِ احمدیت کو ان کی ذمہ داریوں اور دائرہ کار سے متعلق نہایت احسن انداز میں بہرہ ور کیا۔حضرت مصلح موعود کا انصار اللہ مرکزیہ کے اجتماع پر بصیرت افروز پیغام اس سال انصار اللہ مرکزیہ کا نواں سالانہ اجتماع ۱ ۲ ۳ نومبر ۱۹۶۳ء کو نہایت کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا۔اس منفرد اور مثالی اور روحانیت سے لبریز اجتماع میں ۲۲۸ مجالس کے ۱۱۹۴؎ ارکان، ۵۵۵ نمائندگان اور ۱۹۵۲ زائرین نے شرکت کی۔پورا اجتماع اثر و جذب کے ڈوبے ہوئے ماحول میں ہوا۔اس اجتماع میں پہلی بار مشرقی پاکستان کے نمائندگان بھی شامل ہوئے۔اس اجتماع کو یہ خصوصی اعزاز حاصل ہوا کہ حضرت مصلح موعود نے علالت طبع کے باوجود اسے اپنے روح پرور اور بصیرت افروز پیغام سے نوازا جو حضور کی زیر ہدایت (حضرت) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے پڑھ کر سنایا۔پیغام کا مکمل متن درج ذیل کیا جاتا ہے: برادران جماعت احمدیہ السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ آپ لوگ جو اپنے سالانہ اجتماع میں شمولیت کے لئے یہاں جمع ہوئے ہیں۔میں آپ سب کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرتا ہوں کہ وہ آپ لوگوں کے