تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 181
تاریخ احمدیت۔جلد 22 181 سال 1963ء جماعت، ایک ایثار اور قربانی کرنے والی جماعت دیکھنا چاہتے ہیں۔جو یہ نہ سمجھتی ہو کہ زبان کے رس میں ہی ساری کامیابی ہے۔کیونکہ اصل چیز باتیں کرنا نہیں بلکہ کام کرنا ہے۔226 پس اپنے دلوں میں سے ہر قسم کی نمود کا خیال مٹا کر محض اللہ تعالیٰ کے فضل پر بھروسہ رکھتے ہوئے اور فخر و مباہات کے خیالات سے پاک ہو کر خدا تعالیٰ کی رحمتوں کو جذب کرو اور دنیا کے لئے ایک نیک مثال قائم کرو اور آپ میں سے ہر ایک یہی خیال کرے کہ میں ہی احمدیت کا ستون ہوں۔اگر میں ذرا بھی ہلا اور میرے قدم ڈگمگائے تو جماعتی نظام اور امام ہمام کے ارشادات کی چھت کو نقصان پہنچے گا۔اپنے ایمانوں کو مضبوط کرو کہ ایمان انسان کی جوانی کو بڑھاتا اور حوصلوں کو بلند کرتا ہے۔پس مایوسی کے خیالات اپنے دل میں نہ آنے دو اور اپنے حوصلے کو بلند رکھو۔اور یہ عزم اور ارادہ لے کر کھڑے ہو کہ ہم نے خدا تعالیٰ کے قرب کو حاصل کرنا اور اندھیرے میں بھٹکتی ہوئی دنیا کو اس قادر و توانا کی معرفت سے مالا مال کرنا ہے۔اسلام کا کامل نمونہ بن کر حزب اللہ میں داخل ہو جاؤ۔پھر تمہیں ذاتی نصرت بھی حاصل ہوگی اور طفیلی بھی۔مقالہ کے آخر میں آپ نے نوجوانان احمدیت کو پورے زور کے ساتھ اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا کہ:۔آپ کو ایک لحظہ کے لئے بھی یہ حقیقت نہیں بھلانی چاہئیے کہ آپ کا قیام اس لئے کیا گیا ہے کہ جماعت کو مضبوطی اور ترقی حاصل ہو۔اگر آپ کے کسی کام یا حرکت کی وجہ سے جماعت میں تفرقہ اور شقاق پیدا ہوتو آپ سے زیادہ کوئی شقی اور بد بخت نہ ہوگا ہمارے پیارے امام بڑے ہی درد کے ساتھ ہمیں نصیحت فرماتے ہیں:۔خدام الاحمدیہ کو اور انصار اللہ دونوں کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ انہیں اپنے آپ کو تفرقہ اور شقاق کا موجب نہیں بنانا چاہئیے۔اگر کسی حصہ میں شقاق پیدا ہوا تو خدا تعالیٰ کے سامنے تو وہ جوابدہ ہوں گے ہی۔میرے سامنے بھی وہ جوابدہ ہوں گے۔یا جو بھی امام ہو گا اس کے سامنے انہیں جواب دہ ہونا پڑے گا۔کیونکہ ہم نے یہ مواقع ثواب حاصل کرنے کے لئے مہیا کئے ہیں۔اس لئے مہیا نہیں کئے کہ جو طاقت پہلے سے حاصل ہے اس کو بھی ضائع کر دیا جائے۔227 66