تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 176 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 176

تاریخ احمدیت۔جلد 22 176 سال 1963ء آسان ہو جائے گا۔تبلیغ ایک نہایت اہم فریضہ ہے جو بانی احمدیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے ہر احمدی پر فرض کیا گیا ہے۔کفر و ضلالت کی گھٹاؤں کو دور کر کے اسلام کی سچی تعلیم کو دنیا میں رائج کرنا ہر احمدی کا فرض اولین ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسلام پر آنے والے فتنوں کے دور کرنے کو اس زمانہ کی سب سے بڑی عبادت قرار دیا ہے چنانچہ حضور فرماتے ہیں:۔ایک مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ اس زمانہ کے درمیان جو فتنہ اسلام پر پڑا ہوا ہے، اس کے دور کرنے میں کچھ حصہ لے۔بڑی عبادت یہی ہے کہ اس فتنہ کے دور کرنے میں ہر ایک مسلمان کچھ نہ کچھ حصہ لے۔اس وقت جو بدیاں اور گستاخیاں پھیلی ہوئی ہیں، چاہیے کہ اپنی تقریر اور علم کے ذریعے سے اور ہر ایک قوت کے ساتھ جو اس کو دی گئی ہے۔مخلصانہ کوشش کے ساتھ ان باتوں کو دنیا سے اٹھا دے۔اگر اسی دنیا میں کسی کو آرام اور لذت مل گئی تو کیا فائدہ۔اگر دنیا میں ہی درجہ پالیا تو کیا حاصل۔عقبی کا ثواب لو، جس کی انتہا نہیں۔ہر ایک مسلمان کو خدا تعالیٰ کی تو حید و تفرید کے لئے ایسا جوش ہونا چاہیے جیسا کہ خود اللہ کو اپنی توحید کا جوش ہے۔غور کرو کہ دنیا میں اس طرح کا مظلوم کہاں ملے گا۔جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔کوئی گند اور گالی اور دشنام نہیں جو آپ کی طرف نہ پھینکی گئی ہو۔کیا یہ وقت ہے کہ مسلمان خاموش ہو کر بیٹھ ر ہیں ؟ اگر اس وقت کوئی شخص کھڑا نہیں ہوتا اور حق کی گواہی دے کر جھوٹے کے منہ کو بند نہیں کرتا اور جائز رکھتا ہے کہ کافر لوگ بے حیائی سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اتہام لگاتے جائیں اور لوگوں کو گمراہ کرتے جائیں۔تو یاد رکھو کہ وہ بے شک بڑی باز پرس کے نیچے ہے۔چاہیے کہ جو کچھ علم اور واقفیت تمہیں حاصل ہے، وہ اس راہ میں خرچ کرو اور لوگوں کو اس مصیبت سے بچاؤ۔حدیث شریف سے ثابت ہے کہ اگر تم دجال کو نہ ماروتب بھی وہ مر ہی جائے گا۔مثل مشہور ہے۔ہر کمالے را ز والے۔تیرھویں صدی سے یہ آفتیں شروع ہوئیں اور اب وقت قریب ہے کہ اُس کا خاتمہ ہو جائے ، اس لئے ہر ایک مسلمان کا فرض ہے کہ جہاں تک ہو سکے پوری کوشش کرے۔نور اور روشنی لوگوں کو دکھائے۔218 اللہ تعالیٰ سے میری دعا ہے کہ وہ مجھے اور آپ کو حضور کی اس تعلیم کے مطابق عمل کرنے کی توفیق