تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 165 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 165

تاریخ احمدیت۔جلد 22 165 سال 1963ء شرف مصافحہ بخشا اور ساڑھے آٹھ بجے شب ڈھا کہ پہنچے جہاں محترم ایس ایم حسن صاحب نے آپ کے اعزاز میں وسیع پیمانہ پر ایک عشائیہ کا اہتمام کیا ہوا تھا۔اس موقع پر خواجہ شہاب الدین صاحب، ایم اصغر صاحب چیف سیکرٹری حکومت مشرقی پاکستان محترم جی احمد صاحب کمشنر ڈھا کہ ڈویژن اور چوٹی کے تاجر صاحبان بھی تشریف لائے ہوئے تھے۔عشائیہ میں مختلف موضوعات پر دلچسپ گفتگو ہوتی رہی۔مشرقی پاکستان کے پریس نے وفد کی مصروفیات اور جماعت احمد یہ مشرقی پاکستان کے جلسہ سالانہ کے متعلق بہت نمایاں اور صحیح صحیح اور تفصیلی خبریں شائع کیں اور قابل تعریف حد تک فراخدلی اور دلچسپی کا ثبوت دیا۔۲ اکتوبر کی شام کو روانگی کا پروگرام تھا۔جماعت احمد یہ ڈھا کہ کے جملہ احباب نے ہوائی اڈا پر حضرت صاحبزادہ صاحب اور ارکان وفد ( شیخ بشیر احمد صاحب سابق حج مغربی پاکستان جو دوروز کے لئے چٹا گانگ ٹھہر گئے تھے چند روز بعد واپس تشریف لائے ) کو دلی دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا۔حضرت صاحبزادہ صاحب بذریعہ طیارہ ڈھاکہ سے روانہ ہو کر اگلے روز ۳ /اکتوبرکولاہور پہنچے اور سوا چار بجے سہ پہر بذریعہ موٹر کار روانہ ہو کر سات بجے شب کے قریب ربوہ تشریف لے آئے۔یہاں پہنچتے ہی آپ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی مصلح الموعود کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور دورہ مشرقی پاکستان کے کوائف عرض کئے۔۴ اکتوبر کو بعد نماز مغرب مسجد مبارک ربوہ میں ایک جلسہ حضرت صاحبزادہ صاحب کی زیر صدارت منعقد ہوا۔جس میں ارکان وفد نے اس دس روزہ نہایت کامیاب دورہ کے نہایت ایمان افروز حالات بیان کئے اور وہاں کی احمدی جماعتوں کی للہیت ، صبر و استقلال، اشیار و قربانی، محبت و اخلاص اور جذ بہ خدمت و فدائیت کی بہت تعریف کی اور جملہ جماعتوں کے نظم وضبط اور ڈسپلن کو بہت سراہا۔(حضرت) صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے اپنے مؤثر صدارتی خطاب میں بتایا کہ اس دورہ کی تین اغراض تھیں۔اول۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی خداداد قوت قدسیہ کی مدد سے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والوں کے درمیان جو بے نظیر رشتہ اخوت قائم فرمایا ہے۔اسے دیکھا جائے اس سے حظ اٹھایا جائے۔اور اس پر خدا تعالیٰ کا شکر بجالا کر اسے مضبوط سے مضبوط تر کرنے سے ملنے اور ملاقات کرنے