تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 151 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 151

تاریخ احمدیت۔جلد 22 151 سال 1963ء علیہ وسلم ) کی پہچان ہو۔ان بزرگوں نے اپنی تمام طاقتیں اور کوششیں اس مقصد کے حصول کے لئے بے دریغ خرچ کر دیں اور خدمت دین کا حق ادا کیا۔اسلام اور احمدیت کے پودے کی اپنے خون اور قربانی سے آبیاری کی اور دنیا کی کوئی کشش اس کے راستہ میں حائل نہ ہونے دی۔دین سے باہر کسی چیز میں کبھی دلچسپی لی تو فروعی اور وقتی طور پر اور زندگی اور ہر توجہ کا مرکزی نقطہ ہمیشہ خدمت دین رہا۔اپنی تمام زندگی کا یہی Moto رہا کہ دین دنیا پر بہر حال مقدم رہے اور اپنے پر ہر موت اس لئے وارد کی تا اسلام زندہ ہو۔20 تالیفات كالمة الفصل (۱۹۱۵ء) ، الحجة البالغة (جولائی ۱۹۱۷ء) ، اہل بمبئی کے نام حق کا پیغام (۱۹۱۷ء) ، تصدیق امیج والمهدی (دسمبر ۱۹۱۷ء) ، حضرت مسیح موعود کے متعلق چند اصولی باتیں (مئی ۱۹۱۸ء)، سیرت خاتم النبین حصہ اوّل (۱۹۲۰ ء )۔(ڈاکٹر انور محمود خالد اپنی کتاب ”اردو نثر میں سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں لکھتے ہیں ”سیرت خاتم النبین احمدی اہل قلم کی کتب سیرت میں سب سے اہم کتاب ہے کیونکہ ایک تو یہ ان کے قادیانی نقطہ نگاہ کی ترجمانی کرتی ہے اور دوسرے اس میں مستشرقین کے اعتراضات کے جوابات دئے گئے ہیں۔یہ کتاب تین جلدوں پر مشتمل ہے۔پہلی جلد ( طبع دوم ) ۱۹۲۵ء میں دوسری جلد ۱۹۳۱ء میں اور تیسری جلد ۱۹۴۹ء میں شائع ہوئی۔جلد اوّل میں ابتداء سے ہجرت تک کے واقعات ہیں۔دوسری جلد ہجرت سے ۵ ھ تک کے حالات پر مشتمل ہے اور تیسری جلد غزوہ بنی قریظہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تبلیغی خطوط ارسال کرنے تک کے احوال کا احاطہ کرتی ہے۔مرزا بشیر احمد صاحب (ایم اے) کا طرز تحریر بڑا سلجھا ہوا ہے اور وہ اپنی بات منطقی انداز میں سمجھانے پر قادر ہیں۔”سیرت خاتم النبین ، میں اُن کی ادبی سلیقہ مندی اور علمی توازن کا بھر پور مظاہرہ ہوا ہے۔مصنف کے مخصوص قادیانی خیالات سے قطع نظر، یہ کتاب سیرت کی اچھی کتابوں میں شمار کی جاسکتی ہے تبلیغ ہدایت (دسمبر ۱۹۲۲ء) اردو۔سندھی، سیرت المہدی حصہ اوّل (دسمبر ۱۹۲۳ء)، ہمارا خدا (۱۹۲۷ء)، سیرت المہدی حصہ دوم (دسمبر ۱۹۲۷ء)، سیرت خاتم انبین حصہ دوم (۱۹۳۱ء) کشمیر کے حالات (۱۹۳۱ء)، امتحان پاس کرنے کے گر (۱۹۳۴ء) ، گلدستہ عرفان اس مجموعہ کو شیخ محمد اسمعیل صاحب پانی پتی نے دسمبر ۱۹۶۳ء میں محمد احمد اکیڈیمی لاہور کی طرف سے کلام بشیر کے نام سے شائع کیا تھا جس میں صرف ایک نظم کا اضافہ تھا)۔منظوم کلام (اکتوبر۱۹۳۴ء)، 202