تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 150 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 150

تاریخ احمدیت۔جلد 22 150 سال 1963ء لے جانا۔چنانچہ اسی خواہش کے مد نظر ہم رات کو ہی لاہور سے چل پڑے اور رات کے ساڑھے تین بے ربوہ پہنچے۔مضمون میرے اندازہ سے کچھ لمبا ہو گیا ہے لیکن میں ایک دو امور کا ذکر کر کے اسے ختم کرتا ہوں۔ذاتی دعاؤں میں ابا جان دو باتوں کے لئے بہت دعا فرمایا کرتے تھے۔اوّل یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنی رضا کے راستہ پر چلنے کی توفیق بخشے اور دوئم انجام بخیر ہو۔اس آخری امر کے لئے بڑی تڑپ رکھتے تھے اور ہمیشہ اس پر زور دیا کرتے تھے۔مجھے کئی بار فرمایا کہ ایک انسان ساری عمر نیکی کے کام کرتا ہے لیکن آخر میں کوئی ایسی بات کر بیٹھتا ہے جو خدا کی ناراضگی کا مورد ہو جاتی ہے اور جہنم کے گڑھے کے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔ایک دوسرا انسان ساری عمر بد اعمالی میں گزارتا ہے لیکن آخر میں ایسا کام کر جاتا ہے جو خدا کی خوشنودی کا باعث ہو جاتا ہے سو اصل چیز انجام بخیر ہے اور اس کے لئے ہمیشہ دعا کرتے رہنا چاہئیے۔خود اپنے لئے اس کی ہمیشہ سے بہت دعا فرمایا کرتے تھے اور کسی سے کہا کہ میں نے ایک مرتبہ بڑے اضطرار سے یہ دعا کی اور خدا سے درخواست کی کہ اس بارہ میں مجھے کوئی تسلی دے دے۔اس دعا پر جو اغلباً قرآن شریف کی تلاوت کے دوران میں کر رہے تھے یکدم قرآن شریف کے سامنے دونوں ورق سفید ہو گئے اور دائیں ورق پر موٹے الفاظ میں صرف یہ دو لفظ لکھے نظر آئے۔بغیر حساب۔غرضیکہ تعلق باللہ، عشق رسول مسیح زمان سے گہری روحانی وابستگی ،خلیفہ وقت کی بے مثال اطاعت اور فرمانبرداری، خلق خدا سے بے پایاں شفقت، غرباء سے ہمدردی، مرکز سے گہرا لگاؤ اور اسلام اور احمدیت کے مستقبل پر کامل یقین آپ کی زندگی کے خصوصی پہلو تھے۔اپنی ساری عمر اپنی تمام تر طاقت اس کوشش میں صرف کی کہ خدا کا نام بلند ہو اور اس کی مخلوق کی بھلائی ہو۔عین جوانی میں وقف دین کا عہد باندھا اور آخری سانس تک اسے بڑے ذوق اور شوق سے نبھایا۔احمد یت کی یہ مایہ ناز شخصیتیں زمانہ کے لحاظ سے ہمارے بہت قریب کھڑی ہیں اور ہم ان کی قدر و منزلت اور مقام کا صحیح اندازہ نہیں لگا سکے۔لیکن اسلام اور احمدیت کا آنے والا مؤرخ ان کے خط و خال کو اجا گر کرے گا اور تاریخ کے اس دور سے نہیں گزر سکے گا جب تک وہ مسیح محمدی کے ان پروانوں کو خراج تحسین نہ ادا کرے۔یہ خوش قسمت لوگ مسیح محمدی کی فوج کے صف اول کے سپاہی ہیں۔جن کی زندگی کا مقصد ایک اور صرف ایک تھا کہ اسلام دوبارہ زندہ ہو اور دنیا کو ایک زندہ خدا اور ایک زندہ نبی ( محمد صلی اللہ