تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 140 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 140

تاریخ احمدیت۔جلد 22 140 سال 1963ء ہم سب اس دعا میں لگ جائیں کہ اے میرے غفور الرحیم خدا تو اپنے اس مخلص بندے کو بے حساب بخش دے۔تجھے عجز پیارا ہے اور یہ تو ایسے عاجز تھے کہ زندگی بھر تیرے حضور خاک میں ملے رہے! اے آقا تو اپنے پیارے مسیح کے اس پاک لخت جگر کو بخش دے جسے اپنی تمام عمر کی نیکیوں کے باوجود تیرے حضور حساب دینے کی طاقت نہیں۔رحم کی نظر فرما کہ تیرا یہ بندہ بے کسوں پر رحم کیا کرتا تھا۔شفقت کی آنکھ سے دیکھ کہ اس کا دل ہر کس و ناکس کے لئے شفیق تھا۔اے عیب پوشوں کے عیب پوش اس کی کمزوریوں کو اپنی ستاری سے ڈھانک لے۔رحمت اور بخشش کی نظر فرما کہ تیرے سوا اور کوئی بخشتے والا نہیں۔! " 199 صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب کے تاثرات ۵ حضرت ابا جان کی زندگی کے بعض نمایاں شمائل 66 میری طبیعت پر ابا جان کی زندگی کا جو سب سے گہرا اثر ہے وہ آپ کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے عشق کی کیفیت ہے۔آپ کا طریق تھا کہ گھر کی مجالس میں احادیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے واقعات اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے حالات اکثر بیان فرماتے رہتے تھے۔میرے اپنے تجربہ میں یہ ذکر سینکڑوں مرتبہ کیا ہوگا۔لیکن مجھے یاد نہیں کہ کبھی ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذکر سے آپ کی آنکھیں آبدیدہ نہ ہوئی ہوں بڑی محبت اور سوز سے یہ باتیں بیان فرماتے تھے اور پھران کی روشنی میں کوئی نصیحت کرتے تھے۔اسی عشق کے جذبہ میں آپ نے اپنی مشہور تصنیف ” خاتم النبین “ کی تین جلدوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حالات قلم بند فرمائے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق روایات اپنی دوسری مشہور تصنیف ”سیرۃ المہدی“ میں جمع کیں جو تین جلدوں میں شائع ہو چکی ہے۔یہ ہر دو تصانیف آپ نے محنت اور تحقیق کے علاوہ بڑی محبت سے لکھیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ سے بھی بے حد محبت کرتے تھے اور حضور کے خلافت پر فائز ہونے کے بعد اپنا جسمانی رشتہ اپنے نئے روحانی رشتہ کے ہمیشہ تابع رکھا۔دینی معاملات کا تو خیر سوال ہی کیا تھا دنیاوی امور میں بھی یہی کوشش فرماتے تھے کہ حضور کی مرضی کے خلاف کوئی بات نہ ہو۔حضور کی تکریم کے علاوہ کمال درجہ کی اطاعت اور فرمانبرداری کا نمونہ پیش کرتے تھے۔میں نے اس کی