تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 128 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 128

تاریخ احمدیت۔جلد 22 128 سال 1963ء ہر جز سے فیضیاب ہوتا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت میاں صاحب بھی اسی تمثیل کے مطابق صفاتِ نبوت سے زندگی بھر فیضیاب ہوتے رہے۔۔۔آپ کی عادت تھی کہ آپ نصیحتیں اکثر احادیث کے بیان کے ساتھ یا بعض تائیدی واقعات اور قصے سنا کر کیا کرتے تھے اور پھر ہمیشہ ان کو دہراتے رہتے تھے تا کہ وہ مخاطب کے خوب ذہن نشین ہو جائیں۔آپ سے ایک ایک حدیث اور ایک ایک واقعہ میں نے بیسیوں مرتبہ سنا ہے بعض آپ کی طبیعت سے ناواقف سننے والے بعض دفعہ آپ کو یہ یاد دلانے کی کوشش کرتے تھے کہ آپ یہ واقعہ ہمیں ایک مرتبہ پہلے بھی سنا چکے ہیں تو آپ ہاتھ کے قومی اشارہ کے ساتھ اسے روک کر جاری رکھتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرز بیان میں ایسی لذت ودیعت کی ہوئی تھی کہ میں بغیر ذرہ بھر مبالغہ کے کہتا ہوں کہ اُس بسا اوقات سنے ہوئے واقعہ میں پھر ایک نیا لطف بھرا ہوتا تھا اور اس میں مخفی سبق دل میں از سر نو تازہ ہو جایا کرتا تھا۔آپ حضرت خلیفہ اول کی سوانح حیات میں سے جو واقعات بار بار سُنایا کرتے تھے اُن میں سے ایک وہ چھر یوں والا واقعہ بھی تھا جس میں حضرت خلیفہ اول کی طالب علمی کے زمانہ میں ایک بزرگ نے آپ کو نصیحت کی تھی کہ جس طرح قصاب اپنی گند ہوتی ہوئی چھریوں کو وقتا فوقتا ایک دوسرے سے رگڑ تا رہتا ہے تا کہ ان کی کھوئی ہوئی آب واپس آ جائے ویسے ہی ہم صفات لوگوں کے ملتے رہنے سے گرد آلود صفات کی چمک دمک بحال ہوتی رہتی ہے۔بارہا میں نے آپ کی زبان سے یہ واقعہ سنا ہے کبھی تو زور اس پہلو پر ہوتا تھا کہ ملتے رہنا یکطرفہ فائدہ کا موجب نہیں ہوتا بلکہ دونوں فریق ایک دوسرے سے استفادہ کرتے ہیں اور کبھی یہ فکر دامنگیر ہوتا تھا کہ کہیں اگلی نسلیں گزرتے ہوئے بزرگوں کی صحبت ترک کر کے اپنی طبیعت کو زنگ آلود نہ کر لیں۔آپ کی شدید خواہش تھی کہ احمدیت کی نئی نسلیں اپنے بزرگوں سے بار بار کے استفادہ سے ایسی آبدار ہو جائیں کہ ان کے گذر جانے کے بعد خودان میں بھی ایک دوسرے کو چمکانے کی خاصیت پیدا ہو چکی ہو۔آپ کی طرز کلام میں شوکت اور قوت پائی جاتی تھی۔آپ کی بات کا انداز ایک ایسے نقاش کی طرح تھا جو کسی بساط پر مضبوط ہاتھوں کے ساتھ علیحدہ علیحدہ نقش جما رہا ہو۔آپ جب کوئی پیغام بھجواتے تھے تو پیغامبر کو تین مرتبہ سُنا کر اُس سے اُسے دہرانے کا تقاضہ کرتے تھے اور ہمیشہ فرماتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی طریق تھا۔آپ کی روز مرہ کی زندگی حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باریک در بار یک پیروی