تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 127 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 127

تاریخ احمدیت۔جلد 22 127 سال 1963ء (حضرت) صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے تاثرات ۴۔" حضرت میاں بشیر احمد صاحب کی یاد میں حضرت میاں صاحب کے اخلاق میں انبیاء کے اخلاق کی جھلک پائی جاتی تھی جس طرح چاند اپنی روشنی میں سورج کا مرہونِ منت ہوتا ہے اسی طرح آپ انبیاء کے نور سے حصہ پاتے تھے۔آپ موحد تھے۔آپ متوکل تھے۔آپ متقی تھے۔آپ جرات مند تھے۔آپ بھی تھے اور غریبوں کے ہمدرد تھے۔بے سہاروں کے مددگار تھے اور یتیموں اور بیواؤں کے سر پرست سخت ذہین اور ذکی الحس ، سخت فہیم اور ڈور میں نظر رکھنے والے، طبیعت بہت ہی متواضع اور متوازن تھی اور معاملات کے ایسے صاف تھے جیسے بارش کے بعد ڈھلا ہوا آسمان، آپ وجیہ اور باوقار تھے لیکن بجسم انکسار ، مسائل کی گنہ تک پہنچنے کے عادی تھے۔آپ کی نگاہ تفاصیل اور جزئیات کے آخری کناروں تک سرایت کر جاتی تھی۔صادق القول اور صادق الوعد تھے۔عدل و انصاف پر قائم اور مظلوموں کی تائید میں کمر بستہ، نہایت غیور، حیادار، وفا کے پتلے ، قصور واروں کو معاف کرنے والے، عیب داروں کے عیب پوش، امر بالمعروف و نہی عن المنکر ، صاحب عقل و دانش اور صاحب دل ، خداداد فلسفہ اور منطق کے حامل، شاعر اور ادیب، صاحب تحریر اور صاحب تقریر، موقعہ شناس اور حلیم الطبع محتاط ، نگران ، ثابت القول، باریک بین ، متوکل ، مستغنی سادہ مزاج ، خوش خلق ، شیریں کلام ، بذلہ سنج ، نکتہ رس ، نکتہ نواز ، حاضر جواب، حاضر دماغ نظر شناس، عالم، عامل، عارف، عابد، زاہد غرضیکہ حسب ظرف و مرتبہ آپ نے ان تمام صفاتی رنگوں سے اپنی فطرت کو رنگین کر رکھا تھا جن میں انبیا علیہم السلام سرتا پا رنگین ہوا کرتے ہیں یہ وہی رنگ ہیں جن میں جب ایک مخصوص توازن پایا جاتا ہے تو خود بخو دنور کا ظہور ہوتا ہے اور یہ وہی نور ہے جس کا کمال حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی نورانی ذات میں ہوا کیونکہ آ کی صفاتِ حسنہ میں ایک ایسا بے مثل امتزاج، ایک ایسا کامل توازن تھا جس کے وجود سے یہ صفات سراپا نور اللہ میں تبدیل ہو جایا کرتی ہیں۔اسی کا دوسرا نام صبغتہ اللہ ہے اور یہی وہ رنگ ہے جس کے حصول تام سے بشر اور نور کا کوئی جدا گانہ وجود نہیں رہتا لیکن یہ ایک علیحدہ بحث ہے میں تو اس وقت اُس نبیوں کے چاند کا ذکر رہا تھا جس نے اپنی توفیق اور بساط کے مطابق انبیاء علیہم السلام کے نور سے حصہ پایا تھا اور جس طرح مادی چاند اپنی تابانی میں سورج سے کہیں کم ہونے کے باوجود اس کے نور کے