تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 120
تاریخ احمدیت۔جلد 22 120 سال 1963ء 66 بعد غروب آفتاب اس دنیائے فانی سے غروب ہو کر اپنے بھیجنے والے اپنے مالک حقیقی کی آغوش رحمت میں طلوع ہو گیا اور ہم تکتے رہ گئے۔انا للہ و انا اليه راجعون۔۔۔۔اس میرے پیارے بھائی میری اماں جان کے بشری (ان کو حضرت اماں جان پیار سے بشری کہہ کر اکثر پکارتی تھیں) کی کامیاب زندگی خدمات دینی اور بڑے بھائی کے حقیقی معنوں میں قوت بازو بن کر رہے۔تمام جماعت کے لئے مشعل راہ بننے ، دلوں کی تسکین ثابت ہونے اور اپنی شان آب و تاب سے دکھلا کر رخصت ہونے پر اس غم میں بھی بے اختیار دل کہتا ہے اور بے حد جذبہ شکر وامتنان سے کہتا ہے کہ الحمد للہ الحمد للہ میرے بھائی نے ناکام زندگی نہیں پائی جیسا ہونا چاہئے تھا جیسی مراد حضرت مسیح موعود کی تھی ویسی ہی حیات مفید و مبارک گزار کر انجام بخیر پایا۔حضرت منجھلے بھائی کے جانے سے جو خلا پیدا ہو گیا ہے اس کو ہر ایک پُر کرنے کی کوشش کرے جو بوجھ وہ اتار چکے تم اٹھاؤ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وصال ہوا قدرت ثانی کا سلسلہ شروع ہوا مگر خلافت اولیٰ کے وقت سے ہی میرے بھائیوں نے اپنا فرضِ اولین جان کر خدمتِ دین کے لئے اپنے شب وروز وقف کر دئیے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام تمام زمانہ کے لئے رحمت تھے کیونکہ آپ سچے عاشق خادم رحمۃ اللعالمین تھے۔آپ تمام جماعت بلکہ تمام مخلوق کے لئے باپ اور ماں کی مشترکہ محبت رکھتے تھے۔باپ کی طرح تربیت بھی تھی تختی اور نرمی بھی اور ماں کی طرح نرمی اور محبت۔مامتا کی طرح کا پیار بھر اسلوک بھی۔آپ کے بعد یوں معلوم ہوتا ہے کہ دونوں بھائیوں نے مل کر وہ کام بانٹ لیا۔بڑے بھائی حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ جماعت کے شفیق باپ بنے۔مگر باپ آخراز راہ تربیت کڑی نظر بھی رکھتا ہے اور رعب قائم رہے اس لئے اس کو ذرا کبھی کبھی ریز روبھی رہنا پڑتا ہے مگر ماں بچے کی غلطیوں پر پردے بھی ڈالتی ہے۔چھپ چھپ کر سمجھاتی ہے۔باپ کی ناراضگی کا خوف دلاتی ہے۔مارتی ہے تو فورا سینہ سے لگا کر پیار کرتی اور پیار سے کہتی ہے کہ دیکھو تمہارے بھلے کے لئے تو کہتی ہوں کہ اگر اتنا تمہارے دیکھیں تو کیا کہیں۔غرض یہ ماں کا پیارسارے خاندان ساری جماعت کے لئے ایک قدرتی سمجھوتہ کے طور پر منجھلے بھائی صاحب کے سپر درہا اور ہمیشہ نبھایا خوب نبھایا۔وہ نیک نیت ، خوش خلق اور منکسر المزاج تھے۔خود بہت حساس مگر دوسرے کے احساسات کا بھی بہت خیال رکھنے والے۔خدا اور اُس کے رسول کے عشق میں سرشار مگر ہر وقت ڈرنے والے، ہر وقت فکر تھا کہ گنہگار ہوں۔غریب نواز ہمدرد غرض ایک خوبیوں کا مجموعہ تھا ایک نیکیوں کا گلدستہ تھا جس کو