تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 119
تاریخ احمدیت۔جلد 22 119 سال 1963ء قمر الانبیاء فنڈ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا وجود با جود جماعت کے لئے بے انتہا خیر و برکت کا موجب تھا۔آپ کے نیک کاموں کو جاری رکھنے کے لئے حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے قمر الانبیاء فنڈ“ کے نام سے خزانہ صدر انجمن احمدیہ میں ایک مرکھولنے کی اجازت مرحمت فرمائی اور اس جمع شدہ رقم کو حضور انور کی منظور فرمودہ کمیٹی کے ذریعہ خرچ کرنے کا اعلان کیا گیا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت مخلصین سلسلہ نے اس کارخیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی توفیق پائی۔195 حضرت صاحبزادہ صاحب کی حیات مقدسہ پر پانچ بصیرت افروز مضامین حضرت صاحبزادہ صاحب کے سانحہ رحلت پر شعرائے احمدیت نے آپ کی یاد میں بکثرت نظمیں کہیں اور اہل قلم حضرات نے آپ کے فضائل و شمائل پر سیر حاصل روشنی ڈالی۔اس سلسلہ میں پانچ بصیرت افروز مضامین بنیادی حیثیت کے حامل تھے جنہیں آپ کا کوئی سوانح نگار نظر انداز نہیں کر سکتا۔ان مضامین میں دو حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے رقم فرمودہ تھے اور بقیہ تین حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب، (حضرت) مرزا طاہر احمد صاحب اور صاحبزادہ مرزا مظفراحمد صاحب(خلف اکبر حضرت قمر الانبیاء) کے قلم سے نکلے تھے۔ان مضامین کے بعض اہم اور چیدہ چیدہ حصے بطور نمونہ ذیل میں سپر دقر طاس کئے جاتے ہیں۔حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے تاثرات ا۔میرے منجھلے بھائی د تمہیں کہتا ہے مُردہ کون تم زندوں سے زندہ ہو تمہاری خوبیاں قائم تمہاری نیکیاں باقی وہ تو سال بھر سے کہہ رہے تھے کہ میں جا رہا ہوں مگر دل ہمارے بھلا کب مانتے تھے۔اکثر میں نے کہا منجھلے بھائی ! حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو فرماتے تھے خواب کا آ جانا بہتر نشانی ہے کہ دعا وصدقات سے بلائل جاتی ہے۔ناگہانی مصیبت سے خدا محفوظ رکھے جس میں دعا کی توفیق بھی نہیں مل سکتی۔بڑی معصومیت سے اچھا کہہ دیتے مگر پھر جب ملو وہی اشارے رخصت کے وہی ذکر۔مگر وقت آچکا تھا تقدیر مبرم تھی چودھویں کا چاند اُبھر رہا تھا کہ ہمارے گھر کا چاند ” قمر الانبیاء