تاریخ احمدیت (جلد 22)

by Other Authors

Page 118 of 818

تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 118

تاریخ احمدیت۔جلد 22 118 سال 1963ء ہے۔مگر دل کی روشنی اور روحانیت کی چمک خدا اور اس کے رسول کی سچی محبت کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی۔193 آپ صاحب کشف والہام اور مستجاب الدعوات تھے۔آپ کے قول وفعل اور ہر حرکت وسکون میں اخلاق محمدی ہی کا جلوہ نظر آتا تھا۔بچپن ہی سے دین کی خدمت کا زبردست جذ بہ رکھتے تھے۔ہر کام میں اپنے مولا کی رضا کو مدنظر رکھتے تھے اور راضی برضا رہتے تھے۔طبیعت پر درویشی ، خاکساری اور قناعت کا رنگ غالب تھا۔اطاعت امام میں سب کے لئے نمونہ تھے۔مرکز احمدیت، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ ، مبلغین احمدیت واقفین زندگی، سلسلہ کے مرکزی اداروں کے اساتذہ اور درویشان قادیان سے خصوصاً اور باقی سب جماعت سے عموماً بے انتہاء محبت والفت رکھتے تھے۔احمدی نوجوانوں کی تربیت اور ترقی کے لئے کوشاں رہتے تھے۔ماتحتوں کی دلجوئی اور قدر افزائی آپ کا نمایاں وصف تھا۔عظیم حوصلہ اور زبردست قوت برداشت کے مالک تھے۔بدعات کے خلاف گویا شمشیر برہنہ تھے۔قومی اور ملی مفادات کو ہر چیز پر فوقیت دیتے تھے اور دین کو دنیا پر مقدم کرنا آپ کا شعار تھا۔سلسلہ کے اموال اور امانتوں کی حفاظت میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتے تھے اور اس بارے میں غیر ذمہ داری کا ادنی سا مظاہرہ بھی آپ کے لئے ناقابل برداشت ہوتا تھا۔لین دین اور دیگر معاملات میں بھی بہت باریک نظر محتاط اور نکتہ نواز تھے۔خود بھی حساس تھے اور دوسروں کے جذبات واحساسات کی پاسداری کرتے تھے۔اہم تاریخی عکسی تصاویر اور تبرکات کو محفوظ رکھنے کا خاص اہتمام فرماتے تھے۔طبیعت میں بہت نفاست تھی۔گھریلو زندگی بھی مثالی تھی۔باغات لگانے کے بہت شائق تھے اور فن تعمیر سے خاص شغف تھا۔آپ کا حلقہ احباب نہایت درجہ وسیع تھا۔غیر از جماعت اصحاب بھی آپ کو خاص احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھےاوران سے ملاقات پر بہت خوش ہوتے تھے۔آپ کا دامن شفقت سب بنی نوع انسان کے لئے پھیلا ہوا تھا۔مصیبت زدوں کی امداد کو باعث سعادت سمجھتے تھے۔آپ کا دروازہ کبھی کے لئے کھلا تھا اور آپ کی قیامگاہ ایک ایسا در بار عام تھا جہاں آنے جانے والوں کا تانتا بندھا رہتا تھا۔ہر مفوضہ کام غیر معمولی ذمہ داری اور گہرے غور وفکر کے ساتھ انجام دیتے تھے اور محنت شاقہ کے عادی تھے مگر سب تو کل خدا ہی پر تھا اس لئے دعاؤں سے کسی لحظہ غافل نہیں ہوئے ہوں گے بلکہ آپ کی کامیاب اور انقلاب انگیز زندگی کا ایک ایک سانس دعاؤں سے معمور رہا۔