تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 112
تاریخ احمدیت۔جلد 22 112 سال 1963ء ہوئی۔کیا یہ استدراج ہے یا نجوم یا الکل ہے اور کیا سبب ہے کہ خدا تعالیٰ بقول آپ کے ایک دجال کی ایسی پیشگوئیاں پوری کرتا جاتا ہے جن سے ان کی سچائی کی تصدیق ہوتی ہے۔183 184 نیز حضور علیہ السلام نے اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا اپنی کتاب ”تریاق القلوب میں تفصیل سے ذکر کرتے ہوئے رقم فرمایا :۔” میرا دوسرا لڑکا جس کا نام بشیر احمد ہے۔اس کے پیدا ہونے کی پیشگوئی آئینہ کمالات اسلام کے صفحہ ۲۶۶ میں کی گئی ہے اور اس کتاب کے صفحہ ۲۶۲ کی چوتھی سطر سے معلوم ہوتا ہے کہ اس پیشگوئی کی تاریخ دہم دسمبر ۱۸۹۲ء ہے اور پیشگوئی کے الفاظ یہ ہیں۔يَأْتِي قَمَرُ الأنبياءِ وَ اَمُرُكَ يَتَأَتَى يَسُرُّ اللَّهُ وَجُهَكَ وَيُنِيرُ بُرْهَانَكَ سَيُوْلَدُ لَكَ الْوَلَدُ وَيُدْنى مِنْكَ الْفَضْلُ إِنَّ نُورِى قَرِيبٌ۔یعنی نبیوں کا چاند آئے گا اور تیرا کام بن جائے گا۔تیرے لئے ایک لڑکا پیدا کیا جائے گا اور فضل تجھ سے نزدیک کیا جائے گا۔یعنی خدا کے فضل کا موجب ہو گا۔اور نیز یہ کہ شکل و شباہت میں فضل احمد سے جو دوسری بیوی سے میرا لڑکا ہے مشابہت رکھے گا اور میرا نور قریب ہے۔(شائد نور سے مراد پسر موعود ہو ) پھر جب یہ کتاب آئینہ کمالات اسلام ، جس میں یہ پیشگوئی تاریخ دہم دسمبر ۱۸۹۳ ء درج ہے اور جس کا دوسرا نام دافع الوساوس بھی ہے۔فروری ۱۸۹۲ء میں شائع ہوگئی جیسا کہ اس کے ٹائیٹل پیج سے ظاہر ہے تو ۲۰ /اپریل ۱۸۹۳ء کو جیسا کہ اشتہار ۲۰ را پریل ۱۸۹۳ء سے ظاہر ہے۔اس پیشگوئی کے مطابق وہ لڑکا پیدا ہوا جس کا نام بشیر احمد رکھا گیا اور در حقیقت وہ لڑکا صورت کی رو سے فضل احمد سے مشابہ ہے جیسا کہ پیشگوئی میں صاف اشارہ کیا گیا۔اور یہ لڑکا پیشگوئی کی تاریخ دسمبر ۱۸۹۲ء سے تخمیناً پانچ مہینے بعد پیدا ہوا۔اور اس کے پیدا ہونے کی تاریخ میں اشتہار ۲۰ را پریل ۱۸۹۳ء کو چھپوایا گیا۔جس کے عنوان پر یہ عبارت ہے منکرین کے ملزم کرنے کے لئے ایک اور پیشگوئی خاص محمد حسین بٹالوی کی توجہ کے لائق ہے۔ازاں بعد حضرت اقدس علیہ السلام نے ”حقیقۃ الوحی میں آپ کی ولادت کو خدائی نشان قرار