تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 111
تاریخ احمدیت۔جلد 22 111 سال 1963ء نے آپ کی حیات مقدسہ پر ایک مبسوط کتاب بعنوان ”حیات بشیر بھی تصنیف فرمائی ہے۔وحی ربانی میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا ذکر مبارک حضرت صاحبزادہ صاحب کی علالت و وفات اور پریس کا ذکر کرنے کے بعد اب آپ کی عظیم شخصیت کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔سیدنا حضرت مصلح موعود کی ولادت کے قریباً تین سال بعد اللہ تعالیٰ نے ۱۰ دسمبر ۱۸۹۲ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بذریعہ الہام یہ انکشاف فرمایا کہ عنقریب ایک عظیم الشان فرزند آپ کو عطا ہونے والا ہے جو قمر الا نبیاء ہوگا یعنی نبیوں کا چاند۔الہام کے الفاظ یہ تھے۔يَأْتِي قَمَرُ الانبياءِ وَ اَمْرُكَ يَتَأَتَى يَسُرُّ اللَّهُ وَجْهَكَ وَيُنِيرُ بُرْهَانَكَ۔سَيُولَدُ لَكَ الْوَلَدُ وَيُدْنى مِنكَ الْفَضْلُ إِنَّ نُورِى قَرِيبٌ یعنی نبیوں کا چاند آئے گا اور تیرا کام تجھے حاصل ہو جائے گا۔خدا تیرے منہ کو بشاش کرے گا اور تیرے برہان کو روشن کر دے گا اور تجھے ایک بیٹا عطا ہوگا اور فضل تجھ سے قریب کیا جائے گا۔اور میرانور نز دیک ہے۔حضرت اقدس علیہ السلام نے یہ الہام بغرض اتمام حجت کتاب آئینہ کمالات اسلام صفحه ۲۶۶ (مطبوعہ فروری۱۸۹۲ء) میں شائع کر دیا۔اس وحی ربانی کے عین مطابق حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ۲۰ /اپریل ۱۸۹۳ء مطابق ۲ شوال ۱۳۱۰ھ بروز جمعرات پیدا ہوئے جس پر حضور نے اشتہار دیا کہ۔۲۰ را پریل ۱۸۹۳ء سے چار مہینے پہلے صفحہ ۲۲۶ آئینہ کمالات اسلام میں بقید تاریخ شائع ہو چکا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایک اور بیٹے کا اس عاجز سے وعدہ کیا ہے جو عنقریب پیدا ہوگا۔اس پیشگوئی کے الفاظ یہ ہیں۔سَيُولَدُ لَكَ الْوَلَدُ وَيُدْنى مِنْكَ الْفَضْلُ إِنَّ نُورِى قَرِيبٌ یعنی عنقریب تیرے لڑکا پیدا ہوگا اور فضل تیرے نزدیک کیا جائے گا۔یقیناً میر انور قریب ہے۔سو آج ۲۰ را پریل ۱۸۹۳ء کو وہ پیشگوئی پوری ہوگئی۔یہ تو ظاہر ہے کہ انسان کوخود اپنی زندگی کا اعتبار نہیں چہ جائیکہ یقینی اور قطعی طور پر یہ اشتہار دیوے کہ ضرور عنقریب اس کے گھر میں بیٹا پیدا ہوگا خاص کر ایسا شخص جو اس پیشگوئی کو اپنے صدق کی علامت ٹھہراتا ہے۔اور تحدی کے طور پیش کرتا ہے۔اب چاہئیے کہ شیخ محمد حسین اس بات کا بھی جواب دیں کہ یہ پیشگوئی کیوں پوری