تاریخ احمدیت (جلد 22) — Page 175
تاریخ احمدیت۔جلد 22 175 سال 1963ء ربوہ کے خدام پر یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے انہیں ایسی جگہ رہنے کی توفیق عطا فرمائی جہاں سے اس ضلالت و گمراہی کے دور میں سعادت مند روحیں ہدایت کی روشنی حاصل کر رہی ہیں اور اس مقدس بستی کی گوناگوں برکات و فیوض سے کرہ ارض پر بسنے والی نیک روحیں متمتع ہو رہی ہیں اور آج دنیا میں یہ ایک ایسی بستی ہے جہاں سے ایک منظم طریق پر اسلام کی اشاعت اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت دنیا میں قائم کرنے کی انتھک کوشش کی جارہی ہے اگر چہ یہ سعادت آپ کے لئے باعث فخر ہے مگر اس میں بسنے کی وجہ سے چند فرائض اور ذمہ داریاں بھی آپ پر عائد ہوتی ہیں۔آپ کی سب سے بڑی اور اہم ذمہ داری تو یہ ہے کہ آپ یہاں اپنی زندگی اس طرح بسر کریں کہ آپ احمدیت کی چلتی پھرتی تصویر نظر آئیں اور آپ کا ہر فعل حقیقی اسلام کی تعلیم کے مطابق ہو۔نیک نمونہ دکھا ئیں تا کہ دیکھنے والے نصیحت حاصل کریں۔اور اپنی زندگی کو خدا تعالیٰ کی خاطر بسر کریں کیونکہ جو خدا تعالیٰ کا ہو جاتا ہے۔خدا تعالیٰ اس کا ہو جاتا ہے۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔خدا تعالیٰ اپنی طرف آنے والے کی سعی اور کوشش کو ضائع نہیں کرتا۔یہ مکن ہے کہ زمیندار اپنا کھیت ضائع کرے۔نوکر موقوف ہو کر نقصان پہنچا دے۔امتحان دینے والا کامیاب نہ ہو مگر خدا کی طرف سعی کرنے والا کبھی بھی نا کام نہیں ہوتا۔اس کا سچا وعدہ ہے کہ وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت: ٧٠) خدا تعالیٰ کی راہوں کی تلاش میں جو جو یا ہوا وہ آخر منزل مقصود پر پہنچا۔سو میں خدام الاحمدیہ سے کہتا ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کی خاطر سعی کریں۔دنیا کے لوگ مادی فائدہ کی خاطر کیا کچھ نہیں کرتے لیکن کامیابی پھر بھی یقینی نہیں ہوتی۔مگر اللہ تعالیٰ کی طرف خلوص نیت سے رجوع کرنے والا کبھی تہی دست نہیں لوٹتا۔اس خدائی دربار میں رسائی حاصل کرنے کے لئے آپ کو اعمال صالحہ کی ضرورت ہے اور اس کی توفیق پانے کے لئے دعا کی ضرورت ہو گی۔آپ کو چاہئیے کہ رات کو اٹھیں اور دعائیں کریں۔دل کو درست کریں، کمزوریوں کو چھوڑ دیں۔اطاعت نظام کو بشاشت سے قبول کریں۔اتحاد و اتفاق کا کامل نمونہ بنیں اور خدا تعالیٰ کی منشاء کے مطابق اپنے قول و فعل کو بنائیں۔اس طرح جب اپنے نفس کی تربیت ہو جائے گی۔تو تبلیغ کا کام