تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 318 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 318

تاریخ احمدیت 318 جلد 21 کے لئے شفا کا سامان مہیا کرنا تھا۔آپ اگر چہ جماعت کے با قاعدہ مبلغ نہ تھے مگر آپ کی پوری زندگی سراسر اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے وقف تھی۔آپ نے قرآن مجید بڑی عمر میں صرف چار ماہ میں حفظ کیا تھا اور اسکی تلاوت میں آپ کی زبان ہمیشہ تر رہتی تھی۔آپ اپنے والد بزرگوار حضرت خان صاحب فرزند علی خاں صاحب سے بھی پہلے حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں تحریری بیعت کر کے داخلِ احمد بیت ہوئے۔تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان اور احمد یہ ہوٹل لاہور کے قدیم طلباء میں سے تھے۔ڈاکٹری پاس کرنے کے بعد مشرقی افریقہ میں تشریف لے گئے اور ممباسہ نیروبی کمپالا ٹا نگانیکا اور یوگنڈا میں کئی نئی جماعتیں قائم کیں۔مشرقی افریقہ کی ملازمت ترک کر کے آپ 38-1937 ء کے قریب بغرض پریکٹس کراچی آگئے۔یہاں الفنسٹن سٹریٹ میں جماعت نے ایک ہال کرایہ پر لیا ہوا تھا۔اسی ہال میں آپ کی انگریزی میں تقاریر ہوا کرتی تھیں۔1946ء میں جبکہ صوبہ بہار میں ہولناک فسادات اٹھ کھڑے ہوئے اور مسلمانوں کو شدید مظالم سے دوچار ہونا پڑا آپ حضرت مصلح موعود کی تحریک پر صوبہ بہار پہنچے اور بے پناہ مشکلات کے باوجود تا را پور کے متاثرہ علاقہ میں ریلیف کا کام کیا اور مقررہ مدت تک مظلوم مسلمان بھائیوں کی نا قابل فراموش خدمات سرانجام دے کر واپس لوٹے۔حضرت مصلح موعود کے حکم پر آپ عرصہ دراز تک بور نیو میں مقیم رہے جہاں سینکڑوں افراد کو آپ کے ذریعہ قبول حق کی توفیق ملی اور نئی جماعتیں قائم ہوئیں۔ایک رسالہ ملائی اور انگریزی زبان میں PEACE بھی آپ نے جاری کیا۔آپ اپنی پریکٹس کا حرج کر کے 1957ء میں فلپائن تشریف لے گئے۔آپ کی تبلیغ اور تقریروں اور ملاقاتوں سے فلپائن کی جماعت میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔چنانچہ سید نا حضرت مصلح موعود نے سالانہ جلسہ 1958 ء کے موقعہ پر آپ کے نمونہ اور اخلاص پر شاندار الفاظ میں اظہار خوشنودی کرتے ہوئے فرمایا: ” اس ملک (فلپائن) میں حضرت عثمان کے زمانہ میں مسلمان پہنچے تھے لیکن جب سپین اور پرتگال نے اس پر قبضہ کیا تو عیسائیوں نے مسلمانوں کی گردنوں پر تلوار میں رکھ کر ان سے بپتسمہ قبول کروایا۔میری خواہش تھی کہ اس ملک میں دوبارہ اسلام کی اشاعت کی جائے چنانچہ میں نے تحریک جدید کو اس طرف توجہ دلائی۔انہوں نے کوشش کی کہ فلپائن میں مبلغ بھیجا جائے لیکن وہاں کی حکومت نے اس کی اجازت نہ دی اس پر انہوں نے تدبیر کی کہ اس ملک میں لٹریچر بھجوانا شروع کیا۔جس کے ذریعہ بہت سے لوگوں کو احمدیت سے دلچسپی شروع ہو گئی۔اس کے بعد ڈاکٹر بدرالدین صاحب جو احمدیت کے عاشق صادق ہیں، چندہ بھی بڑی مقدار میں دیتے ہیں اور تبلیغی جوش بھی رکھتے ہیں، انہوں نے اپنی پریکٹس کا