تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 314
تاریخ احمدیت 314 بھی مقرر فرما دیا تھا۔جو ایک طرف ان کے علو مرتبت اور دوسری طرف ان پر حضرت صاحب کے اعتماد کی ایک دلیل ہے۔حضرت بھائی صاحب بہت محبت کرنے والے بزرگ تھے۔اور خاندان حضرت مسیح موعود کے ساتھ بڑا اخلاص رکھتے تھے اور اپنی اولاد کو ہمیشہ نصیحت فرماتے رہتے تھے کہ مرکز اور خاندان حضرت مسیح موعود کے تعلق میں کبھی غفلت نہ کرنا۔ایک دفعہ حضرت بھائی صاحب اوائل زمانہ میں اجازت کے ساتھ وسط ہند میں مرزا احسن بیگ صاحب مرحوم کے پاس کچھ عرصہ جا کر ٹھرے تھے اس زمانے میں جنگل میں ایک دفعہ ایک چیتے نے حضرت بھائی صاحب پر حملہ کیا تھا جس کی وجہ سے حضرت بھائی صاحب کی ایڑی پر زخم آیا تھا۔مگر خدا کے فضل سے جلد آرام آ گیا۔مرزا صاحب ہمارے پھوپی زاد بھائی تھے انکی والدہ مرحومہ حضرت مسیح موعود کی چچا زاد بہن تھیں۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی مرحوم کے ساتھ حضرت بھائی صاحب کے خاص تعلقات تھے کیونکہ ہر دو کی طبیعت بے حد جذباتی تھی۔اور غالباً کچھ عرصہ حضرت بھائی صاحب نے الحکم کے عملہ میں بھی کام کیا تھا۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جن دوستوں نے حضرت مسیح موعود کی وفات پر حضور کو غسل دیا ان میں حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی بھی شامل تھے۔اور چونکہ لا ہور اس آخری سفر کے دوران حضرت بھائی صاحب بھی حضرت مسیح موعود کے ساتھ تھے۔اس لئے حضرت بھائی صاحب کو حضرت مسیح موعود کے آخری سفر اور وفات اور جنازہ اور تدفین وغیرہ کے واقعات خوب یاد تھے۔اللہ تعالیٰ حضرت بھائی صاحب کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور ان کی اہلیہ اور اولاد کا دین ودنیا میں حافظ و ناصر ہو۔فقط والسلام شاندار علمی خدمات: خاکسار مرزا بشیر احمد 25/1/62 ،، جلد 21 حضرت بھائی جی اگر چہ کسی عربی درسگاہ یا ادبی کالج میں نہیں پڑھے تھے مگر آپ نے گرانقدر لٹریچر اپنی یادگار چھوڑ ا جو سفر یورپ میں 1924ء کی حقیقت افروز روداد اور بیش قیمت مقالوں پر مشتمل ہے جسے