تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 150
تاریخ احمدیت 150 با وجود بیماری اور کمزوری کے عزیزم مرزا بشیر احمد کے ہاتھ یہ مختصر سا افتتاحی پیغام بھجوا رہا ہوں۔اور دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ مشورے وہی بابرکت ہوتے ہیں جو صحت نیت اور اخلاص کے ساتھ جماعتی مفاد کی غرض سے دئے جائیں۔اور جن میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور جماعتی بہبود کو مد نظر رکھا گیا ہو۔اگر آپ لوگ اپنے مشوروں میں اس روح کو قائم رکھیں گے تو اللہ تعالیٰ آپ کے کاموں میں ہمیشہ برکت رکھے گا اور آپ کے مشوروں کے اچھے نتائج پیدا کرے گا۔لیکن اگر آپ لوگوں نے بھی کسی وقت یہ دیکھنا شروع کر دیا کہ زید یا بکر کی کیا رائے ہے اور یہ نہ دیکھا کہ سلسلہ کا مفاد کس امر میں ہے تو آپ کے کاموں میں برکت نہیں رہے گی۔اور آپ کے مشورے محض رسمی بن کر رہ جائیں گے۔اور خدائی نصرت کو کھو بیٹھیں گے۔پس آپ لوگوں پر ایک بھاری ذمہ داری عائد ہے۔آپ لوگ جب مشورہ دینے کے لئے جمع ہوتے ہیں تو درحقیقت آپ ایک ایسے راستے پر قدم مارتے ہیں جو تلوار کی دھار سے بھی زیادہ تیز اور بال سے بھی زیادہ باریک ہے۔بس آپ لوگ بڑی احتیاط اور غور و فکر کے ساتھ مشورہ دیں۔اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں بھی کرتے رہیں کہ وہ حق آپ کی زبان پر جاری کرے۔اور آپ کو ایسے فیصلوں پر پہنچنے کی توفیق بخشے جو سلسلہ کے لئے مفید اور اس کی دینی اور روحانی اور تنظیمی اور مالی حالت کو بہتر بنانے والے ہوں۔مجھے افسوس ہے کہ باوجود اس کے کہ متواتر کئی سال سے میں جماعت کو توجہ دلا رہا ہوں کہ اسے اپنی آمد کا بجٹ پچیس لاکھ تک پہنچانا چاہئے۔ابھی تک ہماری جماعت نے اس کی طرف پوری توجہ نہیں کی ، حالانکہ ہمارے سپرد جو عظیم کام کیا گیا ہے۔اس کے لحاظ سے 25 لاکھ ہی نہیں، بلکہ 25 کروڑ کا بجٹ بھی ہماری تبلیغی ضروریات کے لئے کافی نہیں ہو سکتا۔کیونکہ ہم نے ساری دنیا کو احمدیت اور اسلام کے لئے فتح کرنا ہے اور ساری دنیا میں صلى الله محمد رسول اللہ ﷺ کا پیغام پہنچانا اور اسے خدائے واحد کے جھنڈے کے نیچے لانا ہے۔لیکن بہر حال جماعت کی موجودہ تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں اپنی آمد کا بجٹ کم از کم چھپیں لاکھ تک پہنچانے کی جلد تر کوشش کرنی چاہئے۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں ہمارے بجٹ کی کمی میں بڑا دخل ان نادہندوں کا ہے جو سلسلہ میں شامل ہونے کے باوجود اخلاص کی کمی کی وجہ سے مالی قربانیوں میں حصہ نہیں لیتے۔اسی جلد 21