تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 98
تاریخ احمدیت 98 جلد 21 جولائی 1955 ء سے جون 1960 ء تک انڈونیشیا میں 495 افراد داخل سلسلہ ہوئے۔اور تین نئی جماعتوں کا قیام عمل میں آیا۔وسطی جاوا کے ایک گاؤں میں تبلیغی جلسہ میں دو دفعہ ایک ایک ہزار دوست شامل ہوتے رہے۔دوران سال یہاں 170 افراد نے بیعت کی۔ان افراد تک پیغام حق پہنچانے میں ایک لوکل مبلغ مکرم احمد رشدی صاحب نے اہم کردار ادا کیا۔برما امسال داناسگرا کی دیہاتی جماعت نے ایک خانہ خدا کی تعمیر کی۔38 مولوی منیر احمد عارف صاحب انچارج مشن نے جماعت کے مخلصین کے ذریعہ ملک کی کئی شخصیات تک بذریعہ لٹریچر پیغام حق پہنچایا نیز سائیکلوسٹائل پمفلٹ بھی بکثرت تقسیم کئے۔جماعت احمدیہ برما کا سالانہ جلسہ سال کے اوائل ہی میں 24 جنوری 1960ء کو منعقد ہوا جس سے انچارج مشن کے علاوہ جناب خواجہ شبیر احمد صاحب، عبدالجبار صاحب، پی ای وی اسماعیل صاحب اور مانکو صاحب نے تقایر کیں۔جلسہ میں غیر از جماعت دوست بھی شامل ہوئے یہ سال بر مامشن کی تاریخ میں خصوصی اہمیت کا حامل تھا کیونکہ اس میں ملک کے دارالسلطنت رنگون میں مسجد اور مشن ہاؤس کی تعمیر مکمل ہوئی۔اس سلسلہ میں جماعت احمد یہ رنگون نے عموماً اور جناب پی ای ورساء ابراہیم صاحب مرحوم اور ان کے صاحبزادے جناب عبدالغنی صاحب نے خصوصاً قربانی وایثار کا اعلیٰ نمونہ دکھلایا اور پندرہ سور و پسیہ کی کثیر رقم پیش کی۔مجاہدین احمدیت کی روانگی اور آمد: 39 اس سال جو مبلغین اسلام دیار غیر میں اعلاء کلمہ حق کے لئے تشریف لے گئے ان کے اسماء گرامی یہ ہیں :- (1) امین اللہ خاں صاحب سالک (4) فروری برائے امریکہ ) (2) مسٹر د تلف خالد صاحب (13 مارچ برائے جرمنی ) (3) قریشی فیروز محی الدین صاحب (24 مارچ برائے غانا ) (4) خان بشیر احمد صاحب رفیق (3 اپریل برائے انگلستان ) (5) جناب صالح الشیمی صاحب ( 5 اپریل برائے انڈونیشیا) (6) شیخ نور احمد صاحب منیر (12 مئی برائے نائیجیریا) (7) عبدالوہاب بن آدم صاحب (18 جون برائے غانا )