تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 618
تاریخ احمدیت 618 حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد کی طرف سے طلبہ کو تعلیم الاسلام کالج میں بھجوانے کی تحریک جلد 21 امسال تعلیم الاسلام کالج کے پرنسپل حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد ساحب نے طلبا کی تعلیمی اور تربیتی بہتری کے لئے احباب جماعت کو یہ پُر زور تحریک فرمائی کہ وہ اپنے بچے ربوہ کے کالج میں داخل کروا ئیں چنانچہ فرمایا :۔اعلی تعلیم اب ضروریات زندگی میں سے ہے اس لئے میٹرک ( سیکنڈری سکول) کا امتحان پاس کرنے کے بعد طلبہ عموماً کالجوں میں داخلہ لیتے ہیں 15-16-17 سال کی عمر زندگی کا اہم ترین دور شمار ہوتی ہے جس میں اگر بچے صحیح راہ پر گامزن ہو جائیں تو دین ودنیا کی نعمتوں سے مالا مال ہو جاتے ہیں اور جوخدانخواستہ غلط قدم اٹھا لیں تو انہیں بالعموم مہلک نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہ عمر ایسی ہے جس میں ایک نوجوان کچھ نہ کچھ ذمہ داریوں کا بار اٹھانے کے قابل ہو جاتا ہے اس لئے سر پرستوں کی کڑی نگرانی کی بجائے اسے ایک حد تک آزاد ماحول میں کچھ نہ کچھ آزادی عمل کا موقعہ دیا جاتا ہے اس لئے نو خیز جوانی کے اس دور میں ان کے لئے صحیح طور پر پنپنے اور ترقی کرنے کے لئے ایک صحت مند ماحول مہیا کرنا ضروری ہوتا ہے ذہنی اور عقلی لحاظ سے نا پختگی اور ناتجربہ کاری کے اس دور میں غیر صحت مند ماحول میں بچے ماں باپ سے الگ ہو کر اکثر بھٹک جاتے ہیں اور غلط راہ پر گامزن ہو جاتے ہیں اس لئے کالجوں میں داخلہ کے وقت والدین اور سر پرستوں پر یہ عظیم اور نازک ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس امر کولو ظ رکھیں کہ بچوں کو کسی غیر صحت مند ماحول میں تو نہیں بھجوا رہے۔تعلیم الاسلام کا لج ربوہ مخصوص اور شاندار روایات کا حامل اور پرسکون فضا میں قائم ہے جس کے اساتذہ اکثر واقف زندگی اور طلبہ کی اخلاقی اور تعلیمی نگرانی میں گہری دلچسپی لیتے ہیں اس لئے میں ایسے احباب سے جنکے عزیز اب کالجوں میں داخلہ لے رہے ہیں پر زور درخواست کرتا ہوں کہ بچوں کو زیادہ تعداد میں تعلیم الاسلام کا لج میں داخل کروائیں 331 دار الرحمت وسطی ربوہ کی بیت الذکر کا سنگ بنیاد 9 نومبر 1962ء کو حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے دارالرحمت وسطی ربوہ کی بیت الذکر کا سنگ بنیاد رکھا آپ نے دعا کے بعد بنیاد میں دو اینٹیں رکھیں جن میں سے ایک بیت مبارک قادیان کی تھی اور دوسری پر حضرت مصلح موعود اور حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم نے دعا کی تھی۔آپ کے