تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 609
تاریخ احمدیت 609 جلد 21 ہندوستانی صرف ایک ہے اور وہ بھی لندن سے آیا ہے۔میں واحد پاکستانی مندوب ہوں۔انڈونیشیا سے تین اور جرمنی کے کافی ہیں۔امریکی اور انگریز زیادہ ہیں۔وی آنا میں اسمبلی ایک اسرائیلی اخبار کا ایڈیٹر بھی آیا ہوا تھا۔یہ شخص ظفر اللہ خان کو برا بھلا کہتا تھا مگر یہ بھی کہتا تھا کہ یو این او کے ممبر عرب ملکوں میں قابلیت کے لحاظ سے کوئی شخص ظفر اللہ خان کا 308 پاسنگ نہیں۔کچھ بے کیف سا تھا۔جناب حمید نظامی کو جہاں جماعت احمدیہ کا عمر بھر کمال جرات و دلیری کا اعتراف رہا وہاں وہ مولوی سیدابوالاعلیٰ مودودی اور سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور ان کی جماعتوں کے خلاف ہمیشہ قلمی جہاد میں سرگرم رہے اور ان کی غداریوں ، ملت دشمنیوں اور پاکستان میں فتنہ انگیزیوں کی سرکوبی کا انہوں نے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔الغرض آپ نابغہ روز گار شخصیت تھے اور شجاعت وسباعت اور حق گوئی کا چلتا پھرتا پیکر بھی۔جماعت احمدیہ کی خوبیوں پر وزیر اعلیٰ پنجاب سردار پرتاپ سنگھ کا تبصرہ 28 جولائی 1962 ء کو وزیر اعلیٰ پنجاب جناب سردار پرتاپ سنگھ کیروں قادیان تشریف لائے جماعت احمدیہ کی طرف سے ان کا استقبال کیا گیا آپ نے جماعت کے مقدس مقامات کی زیارت کی صاحبزادہ مرزا وسیم احمد نے انہیں جماعت سے متعارف کرایا جسکے جواب میں موصوف نے کہا ” مجھے آج احمد یہ جماعت کے مقدس مقامات میں آکر بہت خوشی ہوئی ہے۔بالخصوص احمد یہ جماعت کی رواداری ، وسعت قلبی کو دیکھ کر میں بہت متاثر ہوا ہوں اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ ان خوبیوں والی جماعت کو دنیا میں پھیلنے سے کوئی نہیں روک سکتا اور یہ جماعت احمدیہ کا حق تھا کہ یورپ و دیگر ترقی یافتہ ممالک اس کے لئے خندہ پیشانی سے اپنے دامن کو پھیلائے۔ہمارے ملک میں مذہب تنگ نظری اور تعصب کی لپیٹ میں آیا ہوا ہے۔ایسے مذہب دنیا میں کسی طرح مفید نہیں ہو سکتے اصل چیز انسانیت ہے اور وہی مقدم ہے پس میں جماعت سے کہتا ہوں کہ وہ اپنے خیالات کو زیادہ سے زیادہ پھیلائیں تا کہ دنیا میں انسانیت اور رواداری کا بول بالا ہو۔۔۔میرا یہ خیال ہے کہ احمدیہ جماعت نے اسلام کو جس رنگ میں پیش کیا ہے اس سے اسلام کی ترقی کی بنیادیں مضبوط ہوگئی ہیں۔یہ جگہ بہت ہی بابرکت اور نورانی ہے اور میں اس میں آکر بہت خوش ہوا ہوں۔احمد یہ جماعت اگر چه اقلیت میں ہے لیکن اس کو تبلیغ اور پر چار کا پورا پوراحق ہے اور اسمیں کوئی روک نہیں ڈال سکتا اگر کوئی مطالبہ یا شکایت جماعت احمدیہ کی طرف سے پیش کی جائے گی تو میں پوری ہمدردی اور انصاف سے اسکی