تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 593
تاریخ احمدیت 593 جلد 21 آپ کو معزز روز گار مل گیا بلکہ محکم تعلیم اور اس علاقے کو ایک اچھا شفیق مدرس بھی مل گیا اور اس طرح آپ آسنور اور مضافاتی دیہات کے بچوں کو دینی تعلیم کے نور سے منور کرتے رہے اور اس ہمدردی محنت اور شفقت سے بچوں کو پڑھایا کہ علاقہ بھر کے احمدیوں اور غیر احمد یوں میں آپ معزز قرار پائے۔اس ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد آپ نے پھر درزی کا کام شروع کر دیا تھا لیکن اس طرح کہ یہ پیشہ جو کپڑوں کے ٹکڑوں کی وجہ سے بدنام ہے آپ نے اپنے مسلسل دیانتدارانہ عمل سے اسے معزز بنادیا اور وہ اس طرح کہ کپڑوں کی کرنیں بھی مالکوں کو واپس مل جاتی تھیں علاوہ اس کے چونکہ آپ کی دوکان ایک دار التبلیغ بھی ہوتی تھی اس لئے گاہک جب آپ کی دوکان سے نکلتا تھا تو جسمانی لباس کے ساتھ ہی روحانی لباس میں بھی ملبوس ہوتا تھا۔20 بعض دیگر مخلصین جماعت کا ذکر اس سال مندرجہ ذیل مخلصین جماعت بھی اپنے محبوب حقیقی کو جاملے۔1- شیخ محمد احمد صاحب پانی پتی ( ولادت 31 اکتوبر 1927 ء وفات 9 جنوری 1962 ء) حضرت شیخ محمد اسماعیل صاحب پانی پتی کے فرزند اکبر تھے۔آپ کی ولادت کے زمانہ میں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب سونی پت میں متعین تھے اور حضرت اماں جان بھی چند یوم کے لئے تشریف رکھتی تھیں۔آپ بچہ کی پیدائش کی اطلاع پر بنفس نفیس پانی پت تشریف لے گئیں اور نہ صرف دعاؤں سے برکت بخشی بلکہ کپڑوں کا ایک جوڑا بھی مرحمت فرمایا۔حضرت اماں جان کی خاص توجہ اور دعاؤں کی بدولت شیخ محمد احمد صاحب میں بچپن ہی سے رشد و اصلاح اور شرافت و نجابت کے غیر معمولی اثرات نمایاں تھے اور تاریخ اسلام کے واقعات تو چھوٹی عمر میں اس تفصیل اور صحت کے ساتھ یاد تھے کہ ان کے اساتذہ بھی دنگ رہ جاتے تھے۔آپ نے ابتدائی تعلیم پانی پت کے مسلم ہائی سکول میں حاصل کی پھر 1942ء کے آخر میں مدرسہ احمدیہ میں داخل ہونے کی غرض سے قادیان پہنچے۔کچھ عرصہ بعد حضرت اماں جان کو حضرت میر محمد اسماعیل صاحب کی زبانی معلوم ہوا کہ محمد احم مدرسہ احمدیہ میں پڑھتا ہے تو آپ نے فرمایا کہ اس کی تعلیم کے اخراجات میں خود ادا کروں گی اور یہ فرمانے کے ساتھ یکصد روپیہ کا نوٹ حضرت ڈاکٹر صاحب کو دیا اور فرمایا کہ اس میں سے ماہ بماہ فیس اور اخراجات ادا کرتے رہیں اس کے بعد نہایت با قاعدگی کے ساتھ سال کے