تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 587
تاریخ احمدیت 587 جلد 21 والد صاحب وطن چند ماہ کیلئے چلے جاتے تھے یا سلسلہ کے کسی اور کام پر چلے جاتے تھے۔تو میں ان کے قائمقام پہرہ کی ڈیوٹی ادا کرتا تھا۔مرحوم نے قادیان میں باغیچہ امرود، آموں کا لگایا تھا۔امرود موسم سرمامیں حضرت مصلح الموعود کی خدمت میں بار بار پیش فرمایا کرتے تھے اسی طرح حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی خدمت میں پیش فرمایا کرتے تھے والد صاحب کی دلجوئی کیلئے کچھ رقم بھی عطا فرمایا کرتے تھے۔حاجی خلیل الرحمن مولوی فاضل 232 والسلام حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے آپ کی وفات پر لکھا:۔سید صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پرانے صحابی اور نیک بزرگ تھے پچھلے دنوں پاسپورٹ اور ویزا پر قادیان گئے تھے تا کہ وہاں اپنا آخری وقت دعاؤں میں گزاریں۔ان کی انتہائی خواہش تھی کہ وہ قادیان کے بہشتی مقبرہ میں مدفون ہوں۔سواللہ تعالیٰ نے ان کی دلی خواہش کو پورا فرما دیا۔حضرت خلیفہ عبدالرحیم صاحب جمونی ولادت 12 دسمبر 1893 - 2 پیدائشی احمدی۔وفات 9 نومبر 1962ء۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدیم اور نہایت مخلص صحابی حضرت خلیفہ نورالدین احب جمونی کے صاحبزادے تھے اور حضور علیہ السلام کی دعاؤں کے نتیجہ میں پیدا ہوئے۔آپ نے اپنے والد کے زیر سایہ اور ان کی تربیت کے تحت تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان میں تعلیم پائی۔میٹرک پاس کرنے کے بعد لاہور سے کمرشل کلاس پاس کی جس کے بعد پہلے مہاراجہ ہری سنگھ کے ذاتی سٹاف میں اور پھر ریاست کے مختلف دفاتر اور محکموں میں ترقی کرتے کرتے سیکرٹری شپ تک پہنچے۔ان دنوں مسلمان نو جوانوں کے ولایت جانے کے بہت کم مواقع میسر ہوتے تھے مہاراجہ ان کو اپنے ساتھ باہر لے جانا چاہتے تھے لیکن آپ بمبئی سے ہی اس لئے واپس آگئے کہ آپ کسی صورت میں داڑھی منڈوا کر اسلامی شعار کی بے حرمتی پر تیار نہ تھے اور مہاراجہ کو انہیں داڑھی سمیت شامل وفد کر نے میں تامل تھا۔مہاراجہ پرتاپ سنگھ کے زمانہ میں بدانتظامی اور ظلم کی بناء پر انگریزوں نے ایک کونسل بنادی تھی۔جن دنوں خلیفہ صاحب راجہ ہری سنگھ صاحب کے پرنسپل سٹاف میں شامل ہوئے ان دنوں راجہ صاحب سینئر کونسل ہونے کے علاوہ ولی عہد ریاست بھی تھے۔راجہ ہری سنگھ صاحب کی بعض غلطیوں کے باعث محل کے اندر اور باہر تحریک شروع ہوئی کہ انہیں ولی عہدی سے برطرف کر دیا جائے۔راجہ ہری سنگھ صاحب جو خطوط