تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 466
تاریخ احمدیت 466 جلد 21 پس میں اپنے عزیز نو جوانوں کو یہی نصیحت کرتا اور یہی پیغام دیتا ہوں کہ وہ اپنے فرائض کو پہچانیں اور ان فرائض کی ادائیگی میں ایسا کامل نمونہ دکھا ئیں کہ دنیا اسے دیکھ کر یقین کرے کہ یہ ایک پاک درخت کے پھل ہیں۔حضرت مسیح علیہ السلام نے کیا خوب فرمایا ہے کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔پس اے عزیز و اور اے دوستو! آپ ایسا شیریں پھل بننے کی کوشش کریں کہ آپ کو دیکھ کر دنیا یقین کرلے کہ احمدیت کا درخت ایک سچا اور پاک درخت ہے جسے خدا نے اپنے ہاتھ سے نصب کیا ہے۔20 حضرت چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کا سفرٹرینیڈاڈ وٹو بیگو ٹرینیڈاڈ اور ٹو بیگو کے جزائر بحر کیری بین (Cari Bbean Sea) میں واقع ہیں۔یہ جزائر 121 31 اگست 1962ء کو آزاد ہوئے۔انکو قریباً دوسو برس پہلے پین نے بسایا تھا۔حضرت چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے حکومت پاکستان کے نمائندہ کی حیثیت سے ان کے جشن آزادی میں شرکت فرمائی۔ٹرینیڈاڈ حکومت کے وزیر مولوی کمال الدین صاحب کی تحریک پر انجمن اسلامیہ نے آپ کی ایک تقریر کا انتظام بھی کیا۔آپ کی یہ تقریر ہمالیہ کلب میں ہوئی اور اسے چوٹی کے مسلم حلقوں نے ازحد پسند کیا۔چنانچہ حضرت چودھری صاحب نے 26 ستمبر 1962 ء کے مکتوب نیو یارک میں مولانا جلال الدین شمس صاحب ناظر اصلاح وارشادر بوہ کے نام لکھا:۔”ہمالیہ کلب میں میری تقریر اسلام اور دنیا کی موجودہ مشکلات کاحل“ کے موضوع پر تھی اور بفضل اللہ بہت مقبول ہوئی۔سامعین میں کثرت مسلمان اصحاب کی تھی جن میں سے اکثر نے تقریر کے بعد جوش کے ساتھ اپنی خوشنودی کا اظہار کیا۔خصوصاً چند علماء جوموجود تھے انہوں نے جوش اور اخلاص کیسا تھ مصافحہ کیا اور تقریر کی تعریف کی دوسرے دن ایک بزرگ امام صاحب جو حاجی بھی تھے تین چار رفقاء کے ساتھ ہوٹل میں تشریف لائے اور تقریر کے متعلق اپنی خوشنودی کا اظہار کیا اور تقریر کی تعریف کرتے رہے۔تین چار دن بعد مکرمی جناب کمال الدین محمد صاحب وزیر حکومت ٹرینیڈاڈ اور مکرمی جناب نور غنی صاحب سیکرٹری انجمن تقویت الاسلام نے خاکسار کی دعوت کی جس میں ٹرینیڈاڈ کے چند چیدہ مسلمان شرفاء بھی مدعو تھے اور اس مجلس میں ٹرینیڈاڈ کے مسلمانوں کی دینی اخلاقی اور