تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 398 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 398

تاریخ احمدیت 398 جلد 21 آغاخاں کا حکم تھا کہ اگر مقررہ رقم کی ادائیگی کے وقت تم سمندر میں ہو تو سمندر میں ہی گرادو ہمیں پہنچ جائے گی دراصل یہ ایک ڈھنگ تھا با قاعدہ ادا ئیگی کے لئے پابند بنانے کا۔اگر پانچ فیصدی رقم سمندر میں گر ا بھی دی جاتی تو پچانوے فیصدی با قاعدہ پہنچ جاتی۔وہ لوگ اسی طرح کرتے۔اگر سمندر میں جاتے ہوئے وقت آجاتا تو سمندر میں پھینک دیتے۔پس ان قوموں نے جسے دین سمجھا اس کے لئے بڑی قربانی کی۔ان میں اگر احمدیت پھیل جائے تو اس کا بہت اچھا اثر ہندوستان میں ہوگا۔سیٹھ صاحب کی کتابیں دُور دُور اثر کرتی ہیں۔ان کے لٹریچر کے ذریعہ ہی ایک بڑے آدمی کی بیوی احمدی ہوئی بہت بڑے آدمی ہیں۔بڑے بڑے افسروں اور گورنروں کی پارٹیوں میں جاتے ہیں اور ان کے گھر پر آتے ہیں۔ان کی بیوی نے سیٹھ صاحب کی کسی کتاب میں پردہ کے متعلق پڑھا تو پردہ کرنے لگ گئی اور پارٹیوں میں جانا چھوڑ دیا۔اس پر سارے گھر والے اسے پاگل کہنے لگ گئے۔اس نے مجھے لکھا میں حیران ہوں کہ کیا کروں۔میں نے جواب دیا کہ پردہ کرنا شریعت کا حکم ہے۔جس حد تک اس پر عمل کر سکتی ہو کر و۔مجھ پر اس سے یہ اثر ہوا کہ سیٹھ صاحب کی کتاب کا اثر کہاں جا پہنچا۔اتنے بڑے گھرانے کی خاتون ، ولایت سے پھر کر آئی ہوئی ، اس کے خاوند اور ٹھسر کو نواب کا خطاب ملا ہوا ہے، وہ ایسی متاثر ہوئی کہ پردہ کر کے گھر میں بیٹھ گئی کیونکہ سیٹھ صاحب کے دل سے نکلی ہوئی بات اپنا اثر کر گئی اس رنگ میں ان کی تبلیغ ہر قوم میں اثر کر رہی ہے اور جنوب 166 مغربی ہند میں اس کا بہت اثر ہے۔حضرت سیٹھ صاحب نے اعلان فرمایا کہ آپ مولوی محمد علی صاحب امیر غیر مبائعین کو اس مؤکد بعذاب حلف اٹھانے پر ساٹھ ہزار روپیہ انعام دیں گے کہ جن عقائد پر وہ آج قائم ہیں۔یہی حضرت مسیح موعود کے عقائد تھے اور وہ خود بھی حضرت مسیح موعود اور حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں یہی عقائد رکھتے تھے۔مولوی صاحب موصوف پہلے تو کئی سال خاموش رہے پھر اخبار ”پیغام صلح (4 دسمبر 1946ء) میں یہ اعلان شائع کرایا کہ حضرت امیر ایدہ اللہ تعالی مطلوبہ حلف اٹھانے کو تیار ہیں اور اس کے لئے 25 دسمبر 1946 ء کا دن اور وقت بھی مقرر کر دیا گیا۔حضرت سیٹھ صاحب نے جو عرصہ سے اس موقعہ کے انتظار میں تھے اس روز اپنی طرف سے عبد القادر صاحب صدیقی کو بطور نمائندہ بھجوادیا تا مطلوبہ حلف کے بعد انعامی رقم انکوفوری طور پر ادا کی جا سکے مگر افسوس! جناب مولوی صاحب نے سیٹھ صاحب کے مجوزہ الفاظ میں حلف