تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 382 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 382

تاریخ احمدیت 382 جلد 21 کانفرنس کے مہمانوں کے لئے کھانا پکانے کا انتظام لجنہ اماءاللہ کے سپرد تھا۔روزانہ گیارہ بارہ صد افراد کے لئے تین وقت کھانے کا انتظام لجنہ اماءاللہ نے تسلی بخش طور پر انجام دیا۔تقسیم خوراک کے سلسلہ میں جناب حسن احیا بر مادی صاحب نے انتھک محنت سے کام لیا اسی طرح حمید اللہ صاحب سوکار جو آف جو کرتا نہایت محنت سے مصروف عمل رہے۔اس کانفرنس میں پہلی مرتبہ انڈونیشیا کے صدر سو کارنو نے اپنا پیغام بھجوایا اور کانفرنس کے انعقاد کی مبارکباد پیش کی۔یہ کانفرنس اپنے اندر غیر معمولی اثرات رکھتی تھی جس کا ذکر سیکرٹری صاحب جماعت احمد یہ انڈونیشیا نے ان الفاظ میں کیا :- کانفرنس کی ابتداء سے لے کر انتہاء تک ہر شخص کے اندر یہ احساس تھا کہ ایک غیبی ہاتھ ہے کہ جو اس سارے ماحول پر حاوی ہے یہ غیبی ہاتھ حاضرین کو ایک ایسے غیبی ماحول کی طرف کھینچ رہا تھا جس کا اس سے قبل انھیں تجربہ نہیں ہوا تھا۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ان سب کے اوپر ایک ایسی تیز روشنی ہے جو کہ ہر ایک شامل ہو نیوالے کی روح کی گہرائیوں میں پہنچ کر اس کے اندرا حساس اور یقین پیدا کر رہی ہے کہ وہ اس وقت ایک خدائے قادر کی نگہبانی میں ہے۔“ کانفرنس کے انتظامات کے لئے ایک لاکھ بیالیس ہزار روپیہ کا بجٹ بنایا گیا۔جون 1961 ء کے آخر تک اس بجٹ کی وصولی میں 62 ہزار روپے کی کمی تھی۔ایک بلٹن کے ذریعہ جماعت کو یہ کمی پوری کرنے کی تحریک کی گئی۔اس سلسلہ میں مخیر احباب نے قابل رشک نمونہ دکھایا اور کانفرنس کے ختم ہونے تک 75 ہزار روپے کی رقم جمع کرادی۔کانفرنس میں جماعت کے ایک ہزار نمائندگان نے شرکت کی۔علاوہ ازیں دیگر احباب بھی خاصی تعداد میں شامل ہوئے۔مجاہدین احمدیت کی آمد وروانگی 1961ء میں درج ذیل مبلغین بیرون ملک تشریف لے گئے : 1 - محمد ابراہیم مانو صاحب 2 جنوری (برائے غانا) 2۔مولوی محمد سعید صاحب انصاری۔5 جنوری (برائے سنگا پور )