تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 367 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 367

تاریخ احمدیت 367 جلد 21 سیکرٹری اشانی سیکشن ، محترم محمد آرتھر صاحب چیف ایگزیکٹو آفیسر غانا ہاؤسنگ کارپوریشن ، چوہدری نذیر احمد صاحب ایم ایس سی ، مسٹر چرچل بن آدم صاحب۔پیش کی۔دوران جلسہ شوریٰ کا اجلاس بھی ہوا۔جس میں مخلصین جماعت نے 1360 پاؤنڈ کی مالی قربانی سات برس پیشتر جماعت احمدیہ غانا نے اپریل 1954 ء میں وا (WA) میں ایک مسجد کی بنیاد رکھی جو اس سال کے آغاز میں ایک لاکھ میں ہزار روپے کے مصرف سے پایہ تکمیل کو پہنچی۔اس عالیشان مسجد کی تقریب افتتاح 29 جنوری 1961ء کو منعقد ہوئی۔اس مسجد کے بھاری اخراجات الحاج امام محمد صالح آف وا جیسے مخلص بزرگ نے ادا کئے۔آپ 1931 ء میں حضرت مولانا نذیر احمد علی صاحب کے ذریعہ نور احمدیت سے منور ہوئے۔ابتداء میں آپ کی شدید مخالفت ہوئی مگر کوہ استقلال بنے رہے۔اور ایک مضبوط، فعال، مخلص اور منظم جماعت قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔افسوس الحاج امام محمد صالح صاحب اس تقریب سعید سے پچیس روز قبل اپنے مولائے حقیقی سے جاملے۔مولانانذیر احمد صاحب مبشر نے اس موقع پر اپنی تقریر میں خاص طور پر آپ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :۔وہ شخص جس کی مخلصانہ اور ان تھک کوششوں کے نتیجہ میں اس جماعت کو یہ قابل فخر مسجد بنانے کی توفیق ملی اور جو روح رواں تھا، وہ افتتاح سے صرف چھپیں دن پہلے وفات پا گیا۔“ یہ کہتے ہوئے مولانا کی آواز رقت سے بھرا گئی اور اکثر حاضرین کی آنکھیں بھی آنسوؤں سے تر ہو مسجد کا افتتاح مسٹر وائی بی صدیق ڈپٹی کمشنر وا کے ہاتھوں عمل میں آیا جنہوں نے افتتاحی تقریر میں پہلے الحاج امام محمد صالح صاحب کا خصوصی تذکرہ کیا پھر فرمایا :۔جماعت احمدیہ جس کی بنیاد اس علاقہ میں 1932 ء میں سخت مخالف حالات میں پڑی برابر ترقی کرتی گئی حتی کہ اب دو ہزار پانچ سو آٹھ افراد کی ایک مضبوط جماعت اس علاقہ میں قائم ہے۔اتنے افراد کا 9700 پاؤنڈ کے خرچ اور کئی ایک وقار عمل منا کر اتنی شاندار مسجد بنانا قابل رشک قربانی ہے۔مسجد کا رقبہ 11۔978 مربع فٹ ہے اور اس میں ایک ہزار ایک سو افراد کے نماز ادا کرنے کی گنجائش ہے۔مینار کی بلندی 77 فٹ 7 انچ ہے۔اور یہ بہت دلکش اور جاذب نظر ہے اور مستقبل کا مورخ کبھی اس حقیقت کو فراموش نہیں کر سکتا کہ یہ سب میناروں سے بلند اور اعلیٰ ہے۔“ اس سال غانا کی سرزمین میں مندرجہ ذیل مجاہدین احمدیت ملک کے کونے کونے میں تحریر و تقریر