تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 22
تاریخ احمدیت 22 زبان میں ترجمہ کے فرائض ہمارے مخلص احمدی دوست مسٹر عبدالسلام صاحب میڈسن نے ادا کئے۔میں نے اسلامی رواداری، آزادی ضمیر ، توحید باری تعالی، تمام انبیاء پر ایمان، اور اسلام کا اقتصادی، سیاسی اور سوشل نظام پر روشنی ڈالی۔تقریر کے بعد سوالات کے جوابات دیئے گئے۔خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہ تقریب بہت کامیاب رہی۔الحمد للہ۔ڈنمارک میں دوسری تقریر مؤرخہ 15اکتوبر کو NYKALING کے اہم شہر میں کی۔اس تقریر میں نماز، روزہ، حج، زکوة کی فلاسفی بیان کی جسے لوگوں نے بہت دلچسپی سے سنا۔یہاں بھی مترجم برادرم عبد السلام میڈسن تھے۔سوالات کے جوابات دیئے گئے اور لٹریچر تقسیم کیا گیا۔میرے دورہ ڈنمارک کی اطلاع ملنے پر یہاں ایک مشہور اخبار HOLBAEK-AMSTIDENDE کے ایڈیٹر مع اپنے فوٹوگرافر کے انٹرویو لینے تشریف لائے۔چنانچہ 15 اکتوبر کی صبح میری دو بڑی تصویروں سمیت یہ انٹرویو بہت نمایاں طور پر شائع ہوا۔اس میں جماعت احمدیہ کی تبلیغی مساعی کا ذکر خاص طور پر تفصیلاً کیا گیا کہ کس طرح یہ جماعت اپنے مبلغین کے ذریعہ ساری دنیا میں تبلیغ اسلام کر رہی ہے۔اور قرآن کریم کے تراجم لٹریچر کی اشاعت اور مساجد کی تعمیر میں ہمہ تن مشغول ہے۔مضمون نگار نے جماعت کے قیام کی تاریخ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت اور دعاوی اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی زیر قیادت جماعت کی حیرت انگیز کامیابی اور تبلیغ اسلام میں انہماک کو خاص طور سے بیان کیا۔ڈنمارک میں ہماری طرف سے ترجمہ قرآن کریم کا جو کام جاری ہے۔اس کا بھی تفصیلاً ذکر کیا۔اس مضمون کا مندرجہ ذیل پیرا شائد پورے مضمون کے انداز بیان کا کسی قدراندازہ کرا سکے۔مسٹر عبد اللطیف کو HOJBY کے چھوٹے سے قصبہ میں سیر کرتے ہوئے دیکھ کر ہم یہ سوچے بغیر نہیں رہ سکتے کہ وہ ان خیالات میں مستغرق ہیں کہ وہ دن کب آئے گا۔جب ڈنمارک میں مساجد کی تعمیر کے ساتھ اسلامی توحید کا نعرہ سارے ملک میں گونج اُٹھے گا۔“ خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہ دورہ نہایت کامیاب رہا۔اب نومبر میں دوبارہ دورہ کا پروگرام ہے۔ڈنمارک میں خدا تعالیٰ نے ہمیں ایک آنریری مبلغ عطا فرمایا ہے۔یہ مبلغ ہمارے نہایت جلد 21