تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 283
تاریخ احمدیت 283 تو سال بھر میں ایک لاکھ اور دوسرے سال میں دس لاکھ نئے افراد ہماری جماعت میں شامل ہو سکتے ہیں مگر اس کے لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے اندر اشاعت اسلام کی ایک آگ پیدا کی جائے اور رات دن یہ مقصد اپنے سامنے رکھا جائے کہ ہم نے دنیا بھر کو اسلام اور محمد رسول اللہ اللہ کی غلامی میں داخل کرنا ہے۔مطر پھر میں نے دیکھا ہے کہ جب بعض لوگ دوسروں کو سمجھائیں گے تو ان میں سنجیدگی نہیں ہوگی۔کسی نے مذاق کر دیا تو خود بھی مذاق کر دیں گے۔ان میں یہ سنجیدگی کہ دوسرا شخص بھی توجہ دینے اور یہ سمجھنے پر مجبور ہو جائے کہ یہ شخص میری ہدایت کے غم میں مرا جا رہا ہے پائی نہیں جاتی۔نوجوان سیروں کو جائیں گے مجالس میں قہقہے لگا ئیں گے دوستوں سے کہیں ہانکنے میں اپنا وقت ضائع کر دیں گے مگر دنیا کے ظلمت کدہ کو منور کرنے کی طرف ان کو توجہ نہیں ہوگی۔اگر ہماری جماعت میں ایک دیوانگی ہوتی تو دس لاکھ یا ایک کروڑ کا بھی سوال نہیں اب تک ہماری جماعت دس کروڑ تک پہنچ چکی ہوتی۔پس میں آپ لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اپنے دلوں میں تبدیلی پیدا کر و مخالف کی تبدیلی اتنی ضروری نہیں جتنی تمھاری اپنی تبدیلی ضروری ہے۔مخالف آج مانے یا کل اگر تمھارے اپنے اندر درد پیدا ہو جائے تو وہ خود بخود مائل ہونا شروع ہو جائے گا۔پس ہماری جماعت کے دوستوں کو اپنا صح نظر بلند کرنا چاہیے اور خواہ سفر ہو یا حضر ، ان کے مد نظر صرف یہی بات ہونی چاہیے کہ ہمارا کام لوگوں کو حقیقی اسلام کی طرف بلانا اور انہیںمحمد رسول اللہ ﷺ کا حلقہ بگوش بنانا ہے اس اہم فرض کی ادائیگی کا آسان طریق میں نے بتا دیا ہے کہ آپ لوگوں میں سے ہر شخص یہ عہد کرے کہ وہ سال بھر میں کم از کم ایک بھولی بھٹکی روح کو آستانہ الہی کی طرف کھینچ لانے کا موجب بنے گا۔بلکہ میں سمجھتا ہوں اب ہمیں اس سے بھی آگے قدم بڑھانے کی ضرورت ہے اور ہماری جماعت کے ہر فرد کا فرض ہے کہ وہ ایک کی بجائے کم از کم دس نئے افراد کو احمدیت میں شامل کرنے کی کوشش کرے۔اگر کسی سال وہ اپنے اس عہد کو پورا کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے تو کم سے کم اس کا اتنا فائدہ تو ضرور ہوگا کہ اسے اپنے نفس میں شرم محسوس ہوتی رہے گی اور وہ کوشش کرے گا کہ میں دوسرے سال ہی اپنی اس کو تا ہی کا ازالہ کروں اور نہ صرف گذشتہ کمی کو پورا کروں۔۔۔۔۔۔بلکہ پہلے سے دگنے آدمیوں کو پیغام حق پہنچا کر اللہ تعالیٰ کے حضور سرخرو ہو جاؤں۔جلد 21